تحریر، یاسرمجید
برصغیر کے قدیم ترین شہر ملتان میں مقیم دو ہزار سے زائد ہندو باشندے ایک طویل عرصے سے اپنے بنیادی مذہبی اور آئینی حق یعنی شمشان گھاٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ ملتان میں ہندو برادری کی بڑی آبادی بنیادی طور پر ڈبل پھاٹک، لودھی کالونی، گراس منڈی، کایا پور، لیاقت آباد، پرانا شجاع آباد روڈ اور اب نواز کا بھٹہ جیسے علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔ اس کثیر آبادی کے باوجود شہر میں چتا جلانے کے لیے کوئی مخصوص مقام نہ ہونے کی وجہ سے اس اقلیتی برادری کو اپنے پیاروں کی آخری رسومات کی ادائیگی میں شدید مشکلات اور نفسیاتی کرب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تاریخی نظر سے دیکھا جائے تو ملتان اور اس سے ملحقہ خطہ قدیم دور سے ہی ہندو اور جینی مت کی تہذیبوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل اور قدیم ملتان کی تاریخ میں مذہبی رسومات کی ادائیگی اور چتا جلانے کے لیے مختلف مقامات مختص تھے۔ ان میں سب سے اہم مقام سورج کنڈ کا تاریخی تالاب اور اس کا ملحقہ علاقہ تھا، جسے مذہبی طور پر انتہائی متبرک مانا جاتا تھا اور وہاں شمشان گھاٹ کے ساتھ ساتھ مذہبی میلے بھی منعقد ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ قديم قلعہ ملتان اور مشہور سورج مندر کے قریبی ساحلی علاقوں، پرہلاد پوری مندر کے جوار، اور بالخصوص دریائے چناب اور قدیم ندیوں کے ساحلی گھاٹ (جنہیں مقامی طور پر ‘ست گھاٹ’ یا تربینی بھی کہا جاتا تھا) پر ہندو برادری کے مردوں کی آخری رسومات اور چتا جلانے کے باقاعدہ انتظامات موجود ہوا کرتے تھے۔
تاہم 1947ء کی تقسیم ہند کے بعد ہونے والی بڑی نقل مکانی، وقت کے ساتھ شہری آبادی کے پھیلاؤ اور انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ تاریخی شمشان گھاٹ یا تو متروک ہو گئے یا سرکاری تحویل اور آبادی کی زد میں آ کر ختم ہو گئے۔ بعد ازاں 1992ء میں بابری مسجد کے حادثے کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ نے اقلیتی عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کی بحالی کے راستے مزید محدود کر دیے۔
ہندو برادری کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور حکومت کو بارہا باضابطہ درخواستیں دی گئیں کہ انہیں شہر سے ذرا فاصلے پر، دریائے چناب کے قریب شمشان گھاٹ کی تعمیر کے لیے زمین فراہم کی جائے۔ ہندو مذہبی عقائد میں چتا جلانے کا مقام ندی یا پانی کے بہاؤ کے قریب ہونا متبرک مانا جاتا ہے۔ تاہم مقامی سطح پر امن و امان کے مسائل اور مذہبی و سماجی ہنگامہ آرائی کے خدشات کو بنیاد بنا کر ان درخواستوں کو رد کر دیا گیا۔ انتظامیہ کا موقف تھا کہ آبادی کے قریب یا مخصوص علاقوں میں شمشان گھاٹ قائم کرنے سے مقامی تنازعات جنم لے سکتے ہیں، جس کے باعث یہ معاملہ التوا کا شکار رہا۔
شمشان گھاٹ کی عدم دستیابی کے باعث ملتان کے ہندو اپنے مذہبی عقیدے اور روایات کے برعکس مردوں کو جلانے کے بجائے دفنانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس وقت یہ برادری شہر کے تین مختلف قبرستانوں میں تدفین کر رہی ہے۔ ان میں سے شاہ شمس قبرستان ایک مشترکہ مقام ہے جہاں مختلف اقلیتوں کے ساتھ ہندوؤں کے متوفین بھی دفنائے جاتے ہیں، جبکہ پاک مئی قبرستان اور گراس منڈی قبرستان میں ہندو برادری کے لیے الگ الگ مخصوص قطعات موجود ہیں جہاں صرف انہی کے مردے سپردِ خاک کیے جاتے ہیں۔
اگر کوئی خاندان اپنے مذہبی سنسکار کے مطابق میت کی چتا جلانا چاہے تو اس کے مالی اخراجات عام اور غریب آدمی کی بس سے بالکل باہر ہو جاتے ہیں۔ ملتان میں سہولت نہ ہونے کی وجہ سے میت کو سندھ کے شہروں مثلاً سکھر یا حیدرآباد منتقل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے پرائیویٹ ایمبولینس کا بھاری کرایہ، سینکڑوں کلومیٹر کا سفر، وہاں جا کر منوں کے حساب سے مخصوص لکڑی، دیسی گھی اور تیل کا بندوبست کرنا، اور سوگوار خاندان کے رہائشی اخراجات مل کر لاکھوں روپے میں جا پہنچتے ہیں۔ ان بھاری اخراجات کو برداشت نہ کر سکنے کے باعث اکثر خاندان دل پر پتھر رکھ کر اپنے متوفین کو دفنا دیتے ہیں۔
ملتان کی ہندو برادری کا حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے التماس ہے کہ آئینِ پاکستان کی جانب سے ملنے والی مذہبی آزادی کے تحت انہیں ایک مناسب اور محفوظ مقام پر شمشان گھاٹ کی زمین الاٹ کی جائے تاکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی صدیوں پرانی روایت کے مطابق اپنے پیاروں کی آخری رسومات باعزت طریقے سے ادا کر سکیں۔







