کبھی کبھی سفر اتنا تھکا دینے والا نہیں ہوتا جتنا اس منزل کا تصور جو ہر موڑ کے بعد مزید دور چلی جائے۔ ہمارے دیہات اور قصبات میں بسنے والے لاکھوں چہروں کے لیے ریاست سے رابطہ کچھ اسی اذیت ناک سفر کی کہانی بن چکا ہے۔ فجر کی اولین کرنوں کے ساتھ بسوں کی چھتوں پر لٹک کر کسی دور دراز سیکرٹریٹ یا صوبائی صدر مقام کا رخ کرنا، سارا دن دھوپ میں کچہریوں کی گرد پھانکنا اور شام ڈھلے ایک معمولی سے دستخط یا سفارش کی ناکام حسرت لیے لوٹ آنا یہ صرف چند گھنٹوں کی کٹھن مسافت نہیں، یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی وہ خاموش بے بسی ہے جس نے ہمارے عوام کے چہروں کی رونق چھین لی ہے۔ہم نے طویل عرصے تک یہ سمجھنے کی غلطی کی کہ اقتدار اور وسائل کو چند بڑے شہروں کی فصیلوں میں قید کر کے شاید ہم ایک مضبوط ملک کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ لیکن سچائی اس کے بالکل برعکس ہے۔ جس طرح کسی گھنے شجر کا تنہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر اس کی جڑوں تک مٹی کی نمی اور پتوں تک تازہ ہوا کا گزر نہ ہو تو وہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے؛ بالکل اسی طرح ریاست کی اصل قوت اس کے دارالحکومتوں کے ریشمی پردوں میں نہیں بلکہ آخری سرحد پر کھڑے عام شہری کی آنکھوں کے اطمینان میں پنہاں ہوتی ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام دراصل کوئی دفتری یا جغرافیائی تقسیم نہیں، یہ اسی شجر کی سوکھی شاخوں تک پانی پہنچانے کی ایک سچی اور پرامید کوشش ہے۔سوچئے کہ وہ دن کتنا روشن ہوگا جب ایک کسان کو اپنی فصل کے پانی کے جھگڑے کے لیے، ایک محنت کش کو بچے کے وظیفے کی خاطر، اور ایک ماں کو بنیادی دوا کے حصول کے لیے میلوں کا پرخطر سفر نہ کاٹنا پڑے گا۔ جب فیصلے اور وسائل دونوں اس کے اپنے قصبے اور ضلع کی دہلیز پر دستک دیں گے، تو ریاست ایک خوفناک، بے حس مشین کے بجائے ایک شفیق، پاسبان ماں کے روپ میں نظر آئے گی۔ قربت ہمیشہ اعتماد کو جنم دیتی ہے، اور یہی اعتماد وہ لازوال فصیل بنتا ہے جو قوموں کو ہر قسم کے تفرقے اور ناامیدی کے طوفان سے محفوظ کر لیتی ہے۔چھوٹی انتظامی اکائیوں کا حسن یہ ہے کہ ان میں شکایت کا ازالہ کسی نامعلوم بابو کے صوابدید پر نہیں رہتا، بلکہ وہیں کے مقامی باسیوں کی نگاہوں کے سامنے طے پاتا ہے۔ جب اسکول، شفا خانے، سڑکیں اور نالیاں انہی لوگوں کی نگرانی میں سنوریں گی جن کے بچے وہاں پڑھتے ہیں اور جن کے پاؤں وہاں چلتے ہیں، تو کام میں دیانت داری اور برکت خودبخود اتر آئے گی۔ یہ اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا وہ خوبصورت راستہ ہے جو ہر بستی کو خود کفیل اور ہر شہری کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ہمیں اب ان اندیشوں کے خول سے نکلنا ہوگا جو مرکزیت کی گھٹن کو بقا کا نام دیتے ہیں۔ اختیارات کی منتقلی تفریق کا نہیں، بلکہ باہمی ربط اور خوشحالی کے پھوٹنے کا درخشاں آغاز ہے۔ جب اقتدار عام آدمی کے اتنا قریب آ جائے کہ وہ اسے چھو سکے، محسوس کر سکے اور اس سے اپنا حق مانگ سکے، تو مایوسی کی ہر کڑی دھوپ خودبخود ڈھل جاتی ہے۔ یہی وہ امید ہے جو ہمیں ایک متوازن، پرسکون اور توانا مستقبل کی نوید دیتی ہے جہاں فاصلے سمٹیں گے، محنت رنگ لائے گی، اور دھرتی کا ہر آنگن حقیقی سکھ کی چھاؤں پا کر مسکرا اٹھے گا۔







