ملتان (قوم ریسرچ سیل) ہینڈ آؤٹس میں شیر، فیلڈ میں ڈھیر؟ معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب کے ملتان میں اچانک چھاپوں نے فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیئے!فوڈ سیفٹی کے دعوئوں اور زمینی حقائق میں واضح فرق سامنے آگیا، اگر فوڈ اتھارٹی کی فیلڈ ٹیمیں اپنا کام مؤثر انداز میں کر رہی تھیں تومعاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمیٰ بٹ کو خود ملتان آکر فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ اور چھاپہ مار کارروائیوں کی ضرورت پیش آگئی؟ معاون خصوصی کی براہِ راست فیلڈ انسپکشن نے فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کے دعوئوں پر سوالیہ نشان لگا دیا، کیا افسران کی کارکردگی صرف ہینڈ آؤٹس اور رپورٹس تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے؟معاون خصوصی کے دورہ ملتان کے دوران مختلف فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کی گئی اور خلاف ورزیاں سامنے آنے پر جرمانے عائد کیے گئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کی ہدایات بھی جاری کیں۔ذرائع کے مطابق معاون خصوصی کے دورے کے بعد ملتان اور گردونواح میں فوڈ اتھارٹی کی فیلڈ ٹیمیں متحرک ہوئیں اور مختلف فوڈ پوائنٹس کے خلاف کارروائیوں اور جرمانوں کا سلسلہ تیز ہوگیا۔ذرائع کے مطابق فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران کاکہناہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے زیادہ سے زیادہ جرمانوں کاٹارگٹ دیاہے اورسرکاری ریونیو اکٹھاکرنے کیلئے کہاہے ۔ اس صورتحال نے یہ سوال مزید نمایاں کردیا ہے کہ کیافوڈاتھارٹی کےقیام کامقصد محض ریونیواکٹھاکرناہے توملاوٹ مافیاکیخلاف کارروائیاں کرناکس کی ذمہ داری ہے۔؟ اگر فیلڈ ٹیمیں پہلے ہی مؤثر انداز میں مانیٹرنگ اور کارروائیاں کر رہی تھیں تو اعلیٰ سطح پر براہِ راست فیلڈ ایکشن کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟فوڈ اتھارٹی ملتان کے بعض افسران، ملازمین اور فیلڈ ٹیموں کے حوالے سے ماضی میں مبینہ طور پر مختلف شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں، جن میں بعض فوڈ پوائنٹس کو مبینہ رعایت دینے، ملی بھگت اور غیر قانونی وصولیوں کے الزامات شامل ہیں۔ دوسری جانب ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں مبینہ طور پر ناقص اور غیر معیاری اشیائے خورونوش، ملاوٹ اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے شہریوں کی شکایات برقرار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ انسپیکشن، جرمانے اور کارروائیاں کی جا رہی ہیں تو پھر خلاف ورزیاں ختم کیوں نہیں ہو رہیں اور شہریوں کو محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے میں مطلوبہ کامیابی کیوں حاصل نہیں ہو رہی؟ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف جرمانوں اور کارروائیوں کے اعدادوشمار پیش کرنا کافی نہیں، اصل کارکردگی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ کارروائی کے نتیجے میں ملاوٹ، ناقص خوراک اور قوانین کی خلاف ورزیوں میں عملی طور پر کتنی کمی آئی۔ اگر بار بار کارروائیوں کے باوجود وہی خلاف ورزیاں برقرار رہیں تو فیلڈ مانیٹرنگ کے پورے نظام کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔شہری و کاروباری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ اتھارٹی ملتان کی فیلڈ ٹیموں کی کارروائیوں، شکایات، جرمانوں، انسپیکشن ریکارڈ اور مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح پر غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ کہیں کارروائیاں محض مخصوص فوڈ پوائنٹس تک محدود تو نہیں اور کیا تمام کاروباری مراکز کے ساتھ یکساں قانون کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے فوڈ اتھارٹی کے ترجمان سے موبائل فون پر مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم رابطہ نہ ہوسکا۔







