ملتان (سپیشل رپورٹر)روزنامہ قوم کی جانب سے جنوبی پنجاب میں بند واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مسلسل نشاندہی اور عوام کو صاف پانی کی عدم فراہمی کا معاملہ بالآخر اعلیٰ سطح تک پہنچ گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب افتخار علی ساہو کی انتظامیہ کے ساتھ بریفنگ کے دوران صاف پانی کی فراہمی اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی فعالیت کا معاملہ زیرِ غور آیا، تاہم ذرائع کے مطابق
انتظامیہ کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار نے مزید سوالات کھڑے کر دیے۔بریفنگ میں جنوبی پنجاب کے مجموعی 937 واٹر فلٹریشن پلانٹس کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے 737 پلانٹس کو فعال جبکہ 204 کو غیر فعال ظاہر کیا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعداد و شمار واقعی زمینی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں یا صرف سرکاری فائلوں تک محدود ہیں۔روزنامہ قوم پہلے ہی متعدد بار مختلف علاقوں میں بند واٹر فلٹریشن پلانٹس کی فوٹیج اور عوامی احتجاج سامنے لا چکا ہے۔ وہاڑی میں بند فلٹریشن پلانٹ کے سامنے شہریوں کے احتجاج کی فوٹیج بھی نشر کی گئی جبکہ بہاولپور میں بند فلٹریشن پلانٹس کی صورتحال بھی اجاگر کی گئی۔ ملتان میں بھی متعدد فلٹریشن پلانٹس عرصہ دراز سے بند پڑے ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ملتان کے 397 پلانٹس کہاں ہیں؟ملتان میں تقریباً 397 واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر شہری حلقوں اور زمینی مشاہدات کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد غیر فعال ہے۔ بعض مقامات پر پلانٹس موجود ہیں مگر مشینری خراب، فلٹرز ناکارہ، بجلی منقطع یا دیکھ بھال کا نظام غیر مؤثر ہونے کی شکایات ہیں۔یہاں ایک بنیادی سوال انتظامیہ اور صاف پانی اتھارٹی سے بنتا ہے کہ اگر سرکاری ریکارڈ میں سیکڑوں پلانٹس فعال ہیں تو پھر شہری صاف پانی کے حصول کے لیے دربدر کیوں ہیںسرکاری پلانٹ یا مخیر حضرات کا سہارامزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ شہریوں کے مطابق جو چند پلانٹس عملی طور پر پانی فراہم کر رہے ہیں، ان میں متعدد مخیر حضرات یا نجی سطح پر قائم کئے گئے منصوبے ہیں۔ اگر حکومتی منصوبوں کی بڑی تعداد حقیقتاً فعال ہے تو سرکاری نظام کے ذریعے فراہم ہونے والے صاف پانی کا تناسب واضح طور پر سامنے کیوں نہیں آتا۔کیا افسران کو زمینی حقیقت سے لاعلم رکھا گیا؟ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے سامنے اگر 937 پلانٹس میں سے 737 کو فعال ظاہر کیا گیا ہے تو اس رپورٹ کی بنیاد کیا ہے؟ کیا ہر پلانٹ کا فزیکل ویری فکیشن کیا گیا؟ کیا ہر پلانٹ سے واقعی صاف اور قابلِ استعمال پانی عوام کو دستیاب ہے کیا پلانٹس کی مشینری، فلٹرز، بجلی، پانی کے معیار اور روزانہ کی بنیاد پر فعالیت کی الگ الگ تصدیق ہوئی اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر محض فائلوں میں موجود اعداد و شمار کو فعال پلانٹس قرار دینا عوام اور اعلیٰ حکام دونوں کو گمراہ کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔صاف پانی اتھارٹی کی کارکردگی پر بڑا سوال ،صاف پانی عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اگر کروڑوں روپے کے سرکاری وسائل سے قائم کئے گئے پلانٹس بند پڑے ہوں اور متعلقہ ادارے صرف کاغذی کارکردگی دکھا رہے ہوں تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔سب سے بڑا سوال صاف پانی اتھارٹی اور متعلقہ انتظامیہ سے ہے کہ پلانٹس کی مسلسل مانیٹرنگ کا نظام کہاں ہے؟ بند پلانٹس کی مرمت کیوں نہیں ہوئی؟ اگر بجٹ اور وسائل دستیاب تھے تو عوام تک صاف پانی کیوں نہیں پہنچا اور اگر پلانٹس واقعی فعال ہیں تو ان کی مقام وار مکمل فہرست، فعال ہونے کی تاریخ، پانی کے معیار کی رپورٹس اور فزیکل ویری فکیشن عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جاتیمبینہ بے ضابطگیوں کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔اگر سرکاری ریکارڈ میں پلانٹس فعال ظاہر کئے گئے ہوں جبکہ موقع پر وہ بند یا غیر فعال نکلیں تو معاملہ صرف ناقص کارکردگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز کے استعمال کی شفاف تحقیقات بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حکام جنوبی پنجاب کے تمام واٹر فلٹریشن پلانٹس کا غیر جانب دارانہ تھرڈ پارٹی فزیکل آڈٹ کرائیں، ہر پلانٹ کی جیو ٹیگنگ اور تصویری تصدیق کی جائے اور فعال و غیر فعال پلانٹس کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔روزنامہ قوم کی مسلسل نشاندہی کے بعد معاملہ اعلیٰ سطح پر زیرِ غور آنا خوش آئند ہےمگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کاغذی رپورٹوں کے بجائے زمینی حقیقت سامنے آئے گی اور جنوبی پنجاب کے عوام کو واقعی صاف اور محفوظ پانی میسر ہوگا۔







