ملتان: مقدمہ و محکمانہ انکوائری، عدالتی اہلکار احمد بخاری کے گرد گھیرا تنگ، جعلی ڈگریوں کا بھی دھندہ

ملتان (کورٹ رپورٹر) شادی کا جھانسہ اور جعلی نکاح نامہ کی آڑ میں اپنی پھوپھو کی مطلقہ بیٹی سیدہ (ن) کو ہوس کا نشانہ اور بلیک میلنگ کے لئے قابل اعتراض ویڈیوز بنانے والے عدالتی اہلمد احمد سعید بخاری ولد جاوید حسین بخاری ساکن قصبہ مڑل حال مقیم زکریا یونیورسٹی ملتان نے تھانہ گلگشت میں ایف آئی آر نمبر 1357 سال 26 کے تحت آبرو ریزی کا مقدمہ درج ہونے کے بعد 18 ستمبر تک اپنی عبوری ضمانت کروا لی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ احمد سعید بخاری کی اہلیہ ایمن عباس بخاری احمد سعید کی سگی خالہ کی بیٹی ہے اور اس کے بطن سے احمد سعید بخاری کے تین بچے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ احمد بخاری کی والدہ کا چچا جو کہ مقامی صحافی ہے، احمد بخاری کو حدود آرڈیننس کے مقدمے سے بچانے کے لیے دن رات دوڑ دھوپ کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے نہ صرف وہ تھانہ گلگشت کے ساتھ رابطے میں ہے بلکہ مذکورہ صحافی نے سی پی او ملتان صادق ڈوگر سے بھی ہتھ ہولا رکھنے کی اپیل کی ہے تاہم سی پی او ملتان نے سفارش کے باوجود ایس پی گلگشت کو ہدایت کی ہے کہ اس کیس میں میرٹ پرعمل کیا جائے کیونکہ ملتان میں تعینات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کسی بھی صورت میں کسی بھی قسم کی سفارش کو مسترد کرنے کا کہہ چکے ہیں اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کے حکم پر عدالتی اہلمد احمد سعید بخاری کے خلاف محکمانہ انکوائری بھی شروع ہو چکی ہے، تاہم ابھی تک اس کی معطلی کے احکامات منظر عام پر نہیں آئے۔ روزنامہ قوم کو بتایا گیا ہے کہ حدود کیس کے اس ملزم احمد سعید بخاری ولد جاوید حسین بخاری زکریا یونیورسٹی کے کوارٹر نمبر ای 58 کا رہائشی ہے جہاں اس کا والد درجہ چہارم کا ٹیوب ویل آپریٹر ہے اور یونیورسٹی میں اس گھر کو مبینہ طور پر جعلی ڈگریوں کے حوالے سے ہر کوئی جانتا ہے کیونکہ یہ سندھ اور بلوچستان کے علاوہ دیگر دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مبینہ طور طور پر وکالت کی جعلی ڈگریوں کا انتظام کرتے ہیں اور مبینہ طور پر 15 لاکھ روپیہ فی جعلی ڈگری احمد سعید بخاری کے گروپ میں شامل لوگ لیتے ہیں اور اس گروپ کی سرپرستی اس کا والد زکریا یونیورسٹی کا ٹیوب ویل آپریٹر کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ جعلی ڈگریوں کے عوض رقم کا لین دین جن پانچ اکاؤنٹس کے ذریعے ہوتا ہے ان میں سے ایک اکاؤنٹ احمد سعید بخاری کا بھی ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل اسی ٹیوب ویل آپریٹر جاوید حسین نے زکریا یونیورسٹی کی زرعی اراضی ٹھیکے پر لینے والے اپنے ایک دور کے رشتہ دار کو 45 لاکھ روپے کا پانی غیر قانونی طور پر سرکاری ٹیوب ویل چلا کر چوری کروایا تھا۔ وکالت کی جعلی ڈگریوں کے لیے امیدواروں کو گھیرنے کے مقصد کے لیے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک 512 نامی گروپ بنایا ہوا ہے جس کے ذریعے جعلی ڈگریوں کا مبینہ مکروہ دھندہ گزشتہ کئی سالوں سے روانی سے چل رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کئی سال قبل ایک سابق سیشن جج نے مصدقہ معلومات ملنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی کوشش کی مگر وکلاکا ایک گروپ احمد سعید بخاری کو بچانے کے لیے میدان میں آ گیا اور اسی دوران مذکورہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبادلوں کے جھکڑ کا شکار ہو کر ملتان سے ٹرانسفر ہو گئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں