ملتان میں معروف فوڈ برانڈز کیخلاف سلمیٰ بَٹ کی کارروائیاں،فوڈ اتھارٹی کی کار کردگی کُھل گئی

ملتان (خبر نگار ) مشیر وزیراعلیٰ پنجاب سلمیٰ بٹ کے ملتان دورے کے دوران مختلف فوڈ پوائنٹس، ریستورانوں اور اشیائے خورونوش کے مراکز میں کارروائیوں نے محکمہ فوڈ اتھارٹی کی سابقہ کارکردگی پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ روزنامہ قوم نے چند روز قبل ہی ملتان میں غیر معیاری دودھ، ناقص گھی و تیل، غیر معیاری چاکلیٹس اور دیگر ناقص اشیائے خورونوش کی مبینہ فروخت کی نشاندہی کی تھی۔دورے کے دوران معروف فوڈ برانڈ گلوریا جینز سمیت مختلف فوڈ پوائنٹس اور ڈپارٹمنٹل سٹورز کے خلاف کارروائیاں، سیلنگ اور بھاری جرمانے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر معیاری خوراک کی باقاعدہ نگرانی کا نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا تھا تو ایسی خلاف ورزیاں مسلسل مارکیٹ میں کیسے موجود رہیںفوڈ اتھارٹی کے فیلڈ عملے کی بنیادی ذمہ داری مارکیٹ میں موجود اشیائے خورونوش کا معیار، صفائی، ملاوٹ اور مقررہ قوانین پر عملدرآمد چیک کرنا ہے۔ مگر موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر فیلڈ ٹیمیں باقاعدگی سے مارکیٹوں کا معائنہ کر رہی تھیں تو پھر بڑے معروف فوڈ پوائنٹس اور سٹورز میں مبینہ خلاف ورزیوں کا انکشاف اچانک ایک اعلیٰ سطحی دورے کے دوران ہی کیوں ہوا۔یہ صورتحال محکمہ فوڈ اتھارٹی کے مانیٹرنگ، سپروائزری اور احتسابی نظام پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔مارکیٹ حلقوں میں طویل عرصے سے یہ شکایات گردش کر رہی ہیں کہ بعض فیلڈ اہلکار مبینہ طور پر کاروباری مراکز سے ماہانہ بنیادوں پر مالی فوائد حاصل کرتے ہیںجس کے باعث باقاعدہ اور بلاامتیاز چیکنگ متاثر ہوتی ہے۔ تاہم یہ الزامات اپنی جگہ تحقیقات کے متقاضی ہیں۔اگر کسی اہلکار کے بارے میں یہ شکایت درست ثابت ہوتی ہے کہ وہ سرکاری ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے کسی کاروباری ادارے کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچا رہا ہے تو یہ صرف ایک اہلکار کی بدعنوانی نہیں بلکہ پورے نگرانی کے نظام کی ناکامی تصور ہوگی۔سوال یہ ہے کہ محکمہ فوڈ اتھارٹی اپنے ہی فیلڈ عملے کی نگرانی کیسے کرتا ہے۔کیا افسران کے اچانک دورے، چیکنگ ریکارڈ، سیمپلنگ رپورٹس اور کارروائیوں کا باقاعدہ آڈٹ کیا جاتا ہے۔کیا ان اہلکاروں کے اثاثوں اور طرزِ زندگی کی بھی کبھی محکمانہ جانچ کی جاتی ہے۔ملتان میں گلوریا جینز، سوغات اور دیگر معروف فوڈ پوائنٹس و ڈپارٹمنٹل سٹورز کے خلاف کارروائیوں اور جرمانوں نے شہریوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ اگر ان اداروں میں واقعی فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیاں پائی گئی ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں متعلقہ فیلڈ ٹیموں کی معمول کی چیکنگ میں پہلے کیوں سامنے نہ آئیں۔اور اگر پہلے معائنوں میں سب کچھ درست قرار دیا گیا تھا تو پھر حالیہ کارروائیوں میں خلاف ورزیاں کیسے سامنے آگئیں۔یہی وہ سوال ہے جس کا جواب محکمہ فوڈ اتھارٹی کو عوام کے سامنے دینا چاہیے۔ناقص دودھ، غیر معیاری تیل و گھی، ملاوٹ شدہ اشیاء اور غیر محفوظ خوراک کا براہِ راست اثر شہریوں کی صحت پر پڑتا ہے۔ بچوں، بزرگوں اور دیگر شہریوں میں معدے اور خوراک سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کے تناظر میں فوڈ سیفٹی محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ عوامی صحت کا بنیادی مسئلہ ہے۔اگر فوڈ اتھارٹی کا عملہ مارکیٹ میں موجود ناقص اشیا کی بروقت نشاندہی نہیں کرتا اور کارروائی صرف کسی اعلیٰ افسر یا خصوصی کمیٹی کے دورے کے بعد سامنے آتی ہے تو پھر معمول کی نگرانی کے پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ملتان کے شہریوں اور تاجر حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کو محض جرمانوں اور سیلنگ تک محدود رکھنے کے بجائے اس بات کی بھی مکمل انکوائری کی جائے کہ جن فوڈ پوائنٹس اور اسٹورز کے خلاف کارروائی ہوئی، وہ مبینہ خلاف ورزیاں کتنے عرصے سے جاری تھیں اور متعلقہ فیلڈ ٹیموں نے اس دوران کیا کارروائی کی۔فوڈ اتھارٹی کے متعلقہ افسران، سپروائزرز اور فیلڈ ٹیموں کی گزشتہ کئی ماہ کی چیکنگ رپورٹس، سیمپلنگ ریکارڈ، جرمانوں اور کارروائیوں کا آڈٹ کیا جائے۔ اگر کسی اہلکار کی غفلت، ملی بھگت یا مالی فائدہ لینے کا ثبوت ملے تو اس کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ و قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کی خوراک کی حفاظت پر مامور ادارہ واقعی عوام کی صحت کی حفاظت کر رہا ہے یا صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہے۔حالیہ کارروائیوں نے کم از کم اتنا ضرور واضح کر دیا ہے کہ ملتان میں فوڈ سیفٹی کے نظام کو محض روایتی چیکنگ کے بجائے شفاف، آزاد اور سخت احتساب کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں