ایک سو ایک سالہ سالہ سلائی مشین اور ہجرت

گاندھی کی بکری اور ڈی آئی جی کی بکریاں (آخری قسط)

جہاں یہ رواج ہو کہ کسی بھی سائل سے ڈیزل ڈلوا لو اور پرچی افسران کے سٹاف کو جمع کرا دو مگر پرچی کے پیسے نہ مانگو، جہاں یہ رواج ہو کہ تھانے کے اضافی خرچے اس تھانے کی حدود کے ناجائز فروش اور بدمعاش پورے کریں۔ جہاں یہ رواج ہو کہ استاد کو ایک تیسرے درجے کا اے ایس آئی ہتھکڑیاں لگا کر زمین پر بٹھائے جبکہ اوباش، لوفر، بدکردار اور چٹی دلال تھانے کے بڑے کمرے میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھیں اور کہیں کہ چائے منگوائیں۔ جہاں رضاکاروں کے نظام کے خاتمے کے بعد بھی اس نظام سے جڑے لوگ آج بھی تھانے میں ایسے آتے ہوں جیسے اپنے سسرال آ رہے ہیں وہاں کوئی ایسا آفیسر اپنی فورس کے شہداء کی بیوگان اور پسماندگان کو شہر کے مخیر حضرات سے اپیل در اپیل کرکے 22 فلیٹ نہ صرف خرید کر دے بلکہ براہ راست ان کے نام رجسٹری اور ٹرانسفر کروا دے، جو آفیسر شہداء کے پسماندگان کے لیے اپنی انا، عہدے اور شناخت کو مٹا کر مخیر حضرات سے اپنے شہداء کے لیے بھیک مانگ کر شہر کے مختلف علاقوں میں 31 پلاٹ لے کر ان شہداء کی بے آسرا بیواؤں اور پسماندگان کے نام رجسٹریاں کروا دے، جسے سابق آئی جی پنجاب نے پتھر پر تعریفی الفاظ کندہ کروا کر گفٹ کیے ہوں اور کہا ہو کہ میں نے پتھر پر یہ کچھ اس لیے کندہ کروایا ہے کہ پتھر کی لکیر مٹ نہ سکے۔ جسے ساہیوال گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی آر پی او شپ کی آفر ہو اور وہ 300 بچوں کی حالت کی وجہ سے انکار کر دے، وہ اس نظام میں قابل سزا نہ ہو تو پھر اور کون ہو سکتا ہے۔ میں پھر یہی کہوں گا کہ کرپشن کے روانی سے چلنے والے انجن سے وہی پرزہ علیحدہ کیا جاتا ہے جو اس آلودہ نظام پر مشتمل انجن کی روانی میں رکاوٹ بنتا ہو۔
ایسے شخص کو سزا ضرور ملنی چاہیے جو سسٹم کے مطابق نہیں چلتا اور اس دنیا کی تاریخ میں ہر اس شخص نے شدید مشکلات اور پریشانیاں دیکھیں جس نے خود کو راہ راست پر رکھتے ہوئے دوسروں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی، خواہ وہ اللہ پاک کی طرف سے بھیجے گئے پیغمبر ہی کیوں نہ ہوں۔ سزا کا مستحق تو وہی ٹھہرتا ہے جو سسٹم کے بت کی پوجا کرنے کی بجائے اس کو توڑنے کی ناکام کوشش کرتا ہو اور اس آلودہ سسٹم میں ایسے شخص کو برداشت کرنا واقعی ناممکن ہے۔
میرا ایک دوست بڑا شرارتی اور حاضر جواب ہے وہ برطانیہ میں گزشتہ 22 سال سے مقیم ہے، پاکستان آیا تو اس سے طویل گپ شپ ہوئی، میں نے ایک سوال کیا پھر اس کے بعد مجھ میں مزید کوئی سوال کرنے کی ہمت نہیں رہی۔ میں نے کہا یار عارف تو نے پاکستان میں بھی بھرپور زندگی گزاری اور بڑی دلیرانہ کرائم رپورٹنگ کی، اب تولندن میں بھی اچھا وقت گزار رہا ہے ان دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے حالات کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو تم ایک جملے میں کیا کہو گے۔ عارف حسین نے لگی لپٹی رکھے بغیر برجستہ کہا کہ پاکستان اور برطانیہ میں بس اتنا سا ہی فرق ہے جو گٹر اور گندے نالے میں ہوتا ہے۔ اس کا جواب سن کر میں حیران رہ گیا میں نے کہا یار اس جملے کی وضاحت کرو تو کہنے لگا میاں جی، وہاں گندگی چھپائی نہیں جاتی بلکہ صاف نظر آتی ہے کہ وہاں منافقت نہیں ہے، وہ لوگ اندر اور باہر سے ایک ہیں، اس لیے یورپ کو آپ گندا نالہ کہہ لیں جبکہ ہمارے ہاں گندگی اور غلاظت کے گٹر پر بڑا صاف ستھرا ڈھکن پڑا ہوا ہوتا ہے اور اندر غلاظت کے بھبھکے ہوتے ہیں۔ گندے نالے میں دن بھر دھوپ پڑنے سے کچھ جراثیم مر بھی جاتے ہیں جبکہ گٹر مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے اس میں زہریلی گیسیں پیدا ہوتی رہتی ہیں جو بعض اوقات زندگی تک چھین لیتی ہیں۔ عارف حسین کے جواب نے مجھے لاجواب کر دیا اور پھر مجھے مزید کوئی سوال کرنے یا تقابلی جائزہ لینے کی ہمت نہ ہوئی۔
لاہور سے ٹرانسفر ہو کر جب میں ملتان آیا تو مجھے جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں جانے اور اہم محکمہ جات کے افسران سے ملنے کے مواقع روٹین سے میسر آتے رہے۔ ایک صاحب اس وقت ایس پی تھے اب فوت ہو چکے ہیں اس لیے ان کا نام لینا قطعی طور پر مناسب نہیں کہ ان کی روح نہ شرمائے۔ ان کے کمرے میں ایک عورت پیش ہوئی جس کی شکایت پر مذکورہ ضلع کے ایس پی نے اپنے ڈرائیور کانسٹیبل کو نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔ خاتون کی شکایت یہ تھی کہ یہ کانسٹیبل مجھے شادی کا جھانسہ دے کر بلیک میل کرتا رہا اور کئی سال مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔ میں انکار کرتی تو وہ کہتا کہ تمہارے دونوں چھوٹے بھائیوں کو منشیات میں جیل بھجوا دوں گا اور میں خوف کے مارے جب بھی اور جہاں بھی طلب کرتا، مجھے جانا ہی پڑتا تھا۔ دوران تفتیش الزامات درست ثابت ہونے پر اس ضلع کے ایس پی نے مذکورہ کانسٹیبل ڈرائیور کو نوکری سے برخاست کر دیا جس کی خبر بھی ہمارے ہاں چھپتی رہی۔ مذکورہ کانسٹیبل اپیل میں ایک سفارشی جسے میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں، اسی ڈویژن کے ڈی آئی جی کے پاس پیش ہو گیا کہ معافی تلافی ہو سکے۔ صاحب بہادر نے دونوں کو طلب کیا تو اتفاق سے میں وہیں موجود تھا۔ ڈی آئی جی صاحب نے دونوں طرف کی بات انتہائی تحمل سے سنی پھر ڈرائیور کو گالیاں دیں اور مذکورہ خاتون جو کہ ڈرائیور سے عمر میں کم از کم 20 سال چھوٹی تھی، کو مخاطب ہو کر کہا۔ اگر یہ ڈرائیور قصور وار ہے تو تم بھی برابر کی قصوروار ہو، تم بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اڑاتی۔۔۔۔۔، تم کون سی ۔۔۔۔۔۔ ہو، اور ڈرائیور کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بحال کر دیا۔ مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے سوال کیا کہ کانسٹیبل نے بھی تو اپنے عہدے اور حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اس کی سزا تو بنتی ہے تو مذکورہ ڈی آئی جی صاحب نے فرمایا اس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہم سزائیں دینے لگے تو تھانوں میں الو بولیں گے۔ ہمیں سسٹم بھی تو چلانا ہے بس مجھے سمجھ آ گئی کہ ہر کسی کا سسٹم چلانے کا اپنا اپنا طریقہ، اپنا اپنا انداز فکر اور اپنی اپنی پسند اور ناپسند ہے۔ مذکورہ ڈی آئی جی کو اپنا ماتحت پسند تھا تو انہوں نے میرٹ کو ایک طرف رکھ دیا اور لاہور میں تعینات ڈی آئی جی کے نزدیک ان کی راجگانی بکریاں انسانی عزت اور تکریم سے زیادہ اہمیت رکھتی تھیں لہٰذاانہوں نے اپنے پسند کے انصاف کو لاگو کر دیا۔
ویسے ہم کتنے بدقسمت ملک میں رہتے ہیں جہاں ہر کوئی انصاف کی بات تو بڑھ چڑھ کر کرتا ہے مگر انصاف کرنا تو دور کی بات، اس کے قریب بھی نہیں پھٹتا۔ میں نے جن علمائے کرام سے کبھی گپ شپ لگائی یا قرآن مجید کا جتنا بھی اپنی حیثیت کے مطابق مطالعہ کیا، مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی اور پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کو مد نظر رکھا تو مجھے انصاف کی بجائے عدل کی ترغیب اور حکم ہی ملے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدل صرف عدلیہ کے نام کے لیے تو استعمال ہوتا ہے باقی ہر معاملے میں عدل متروک ہو چکا ہے، اس کی جگہ انصاف نامی کھوکھلے اور منافقانہ نعرے نے لے لی ہے۔ حیرت ہے کہ پھر بھی ہم اعلی درجے کے مسلمان کہلائے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہم ہی ہیں جنہوں نے دنیا میں اسلام پھیلانا ہے۔ ویسے غلط فہمی ہو تو پھر ایسی ہی ہونی چاہیے۔ کالموں کے اس سلسلے کو سمیٹتے ہوئے میں محبوب اسلم کو یہ مشورہ دوں گا کہ وہ اس الزام پر شکر ادا کرے ورنہ میں نے تو اپنی 37 سالہ صحافتی زندگی میں اجلی شہرت کے حامل افسران پر الزام لگاتی ہوئی آلودہ خواتین کی بھرمار بھی دیکھی ہے جنہیں پولیس کے نچلے درجے کے افسران بلیک میل کرکے ان سے اپنی مرضی کے بیانات دلوا لیتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ غریق رحمت فرمائے میری والدہ ایک جملہ کہا کرتی تھیں جس کی اس وقت سمجھ نہیں آتی تھی مگر اب سمجھ آتی ہے۔ پتر یہ جو آپ پڑھائی پر توجہ نہیں دیتے، لاپرواہی کرتے اور اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں، یہ آپ کسی دوسرے کو نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ دوسروں کو دھوکہ دینے والا تو کچھ دن نکال کر سزا بھگتتا ہے مگر خود کو دھوکا دینے والا بہت جلد سزا بھگت لیتا ہے۔
من حیث القوم ہم سب خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں