ملتان (زرعی رپورٹر) سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان میں فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا گیارہواں اجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی مس صباحت حسین کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کپاس کی فصل کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کاشتکاروں کے لیے 15 ستمبر تک مختلف اہم سفارشات جاری کی گئیں۔ اجلاس میں ادارہ ہذا کےمختلف شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ستمبر کے دوران کپاس کی فصل پھل، پھول اور ٹینڈے بنانے کے اہم مرحلے سے گزر رہی ہے، اس لیے کاشتکار فصل کی بروقت نگہداشت اور کیڑے مکوڑوں کے مؤثر تدارک پر خصوصی توجہ دیں۔اجلاس میں کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی کہ سفید مکھی کے تدارک اور نگرانی کے لیے کپاس کے کھیت میں پیلے لیس دار چپکنے والے پھندے 10 عدد فی ایکڑ کے حساب سے نصب کیے جائیں۔ اگر گرد و غبار کے باعث پھندوں پر موجود گوند کی چپچپاہٹ کم ہو جائے تو ان پر تازہ گوند لگا کر دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے تاکہ سفید مکھی کی مؤثر نگرانی اور گرفت کا عمل جاری رہے۔ سفید مکھی کے کیمیائی تدارک کے لیے سپائروٹیٹرامیٹ 125 ملی لٹر + بائیو پاور مکسچر 250 ملی لٹر، یا فلونیکامڈ 80 گرام، یا پائری پروکسی فن 400 تا 500 ملی لٹر، یا سینٹرانیلی پرول + ڈائیافینتھورین مکسچر300 ملی لٹربحساب 100 لٹر پانی فی ایکڑ سپرے کرنے کی سفارش کی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں گلابی سنڈی کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لہٰذا کاشتکار گلابی سنڈی کی مؤثر نگرانی اور بروقت تدارک کے لیے خصوصی اقدامات کریں۔ گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کے لیے ایک جنسی پھندہ فی پانچ ایکڑ کے حساب سے نصب رکھیں، جبکہ مینجمنٹ کے لیے پہلے سے نصب شدہ آٹھ جنسی پھندے فی ایکڑ کے حساب سے جاری رکھیں۔ جنسی پھندوں میں لگے کیپسول ہر 15 دن بعد لازماً تبدیل کیے جائیں۔ گلابی سنڈی کے کیمیائی تدارک کے لیے سینٹرانیلی پرول + لیوفینوران مکسچر 80 ملی لٹر، یا گیما سائہیلوتھرین 100 ملی لٹر، یا کلورینٹرانیلی پرول + لیمبڈا سائہیلوتھرین مکسچر160 ملی لٹر، یا ڈیلٹامیتھرین + ٹرائیزوفاس مکسچر 600 ملی لٹر بحساب 100 لٹر پانی فی ایکڑ سپرے کرنے کی سفارش کی گئی۔ڈسکی کاٹن بگ کے حملے کی صورت میں کاشتکار کلوتھیانیڈن 200 ملی لٹر بحساب 100 لٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریں، جبکہ ملی بگ کے حملے کی صورت میں پروفینوفاس 70 ملی لٹر فی 20 لٹر پانی کی ٹینکی کے حساب سے استعمال کرنے کی سفارش کی گئی۔ اور کاشتکار ہفتے میں دو بار پیسٹ سکاوٹنگ کا عمل جاری رکھیں۔موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر کاشتکار فصل میں پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں۔ ستمبر میں کپاس کی فصل پھول، پھل اور ٹینڈے بنانے کے اہم مرحلے سے گزر رہی ہے، اس لیے کھیتوں میں باقاعدگی سے واٹر اسکاوٹنگ کی جائے اور ضرورت کے مطابق آبپاشی کی جائے۔ کھیت میں بھر کر پانی لگانے سے گریز کیا جائے اور ہلکی آبپاشی وقفے وقفے سے کی جائے تاکہ فصل کو پانی کی کمی سے بھی بچایا جا سکے اور کھیت میں غیر ضروری نمی بھی پیدا نہ ہو۔کاشتکار کپاس کی چنائی اس وقت شروع کریں جب تقریباً 50 فیصد یا اس سے زیادہ ٹینڈے کھل چکے ہوں۔ چنائی ہمیشہ پودے کے نچلے حصے میں موجود کھلے ہوئے ٹینڈوں سے شروع کرتے ہوئے بتدریج اوپر کی طرف کی جائے۔ صرف مکمل کھلے، خشک اور صاف ٹینڈوں سے صاف پھٹی چنی جائے، جبکہ کچے، نیم کھلے اور خراب ٹینڈوں کو الگ رکھا جائے۔ چنائی کے لیے صاف کپڑے کے تھیلے استعمال کیے جائیں اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ پھٹی میں سانگلی، پلاسٹک، بال یا دیگر غیر متعلقہ اشیا شامل نہ ہوں۔ شبنم یا نمی خشک ہونے کے بعد چنائی کی جائے، جبکہ گیلی کپاس کو خشک کپاس سے الگ رکھ کر اچھی طرح خشک کیا جائے۔جن کاشتکاروں نے بیج کے حصول کے لیے کپاس کی فصل کاشت کی ہے، وہ فصل میں روگنگ کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھیں اور کمزور، بیمار یا متاثرہ پودوں کو کھیت سے نکال دیں تاکہ معیاری اور صحت مند بیج حاصل کیا جا سکے۔ بیج کے لیے حاصل کی گئی کپاس کو اچھی طرح دھوپ میں خشک کرنے کے بعد ہوا دار جگہ پر مزید خشک کیا جائے اور ذخیرہ کرنے کے وقت بیج میں نمی کا تناسب 8 سے 10 فیصد کے درمیان رکھا جائے۔ بیج کو محفوظ کرنے سے پہلے اس کی اگاؤ کی صلاحیتلازماً چیک کی جائے اور صرف اچھی اگاؤ کی صلاحیت رکھنے والا معیاری بیج آئندہ کاشت کے لیے محفوظ کیا جائے۔کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی کہ رواں سیزن میں جن کپاس کی اقسام نے اچھی پیداوار اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، ان کا بیج آئندہ کاشت کے لیے محفوظ کرنے کو ترجیح دی جائے اور ہر سال نئی نئی اقسام کے غیر ضروری تجربات سے گریز کیا جائے۔ کاشتکار اپنے کھیت کی مقامی موسمی اور پیداواری صورتحال کے مطابق پہلے سے بہتر کارکردگی دکھانے والی اقسام کو ترجیح دیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض علاقوں سے کپاس کے پودوں کے سوکھنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ایسی صورت میں متاثرہ پودوں کی جڑوں کے اردگرد کاپر آکسی کلورائیڈ 2.5 تا 3 گرام فی لٹر پانی کے محلول سے ڈرینچنگ کرنے کی سفارش کی گئی تاکہ متاثرہ پودوں کے مزید نقصان کو کم کیا جا سکے۔کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی کہ کپاس کی فصل کا باقاعدگی سے معائنہ جاری رکھیں، کیڑے مکوڑوں کی بروقت نگرانی کریں اور کسی بھی غیر معمولی علامت یا حملے کی صورت میں فوری طور پر ماہرین زراعت سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ فصل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔







