چولستان میں کھربوں مالیتی سرکاری اراضی پر قبضے40 کنال سکول زمین بھی لینڈ مافیا کو واپس

یزمان ( نمائندہ خصوصی ) شکارگاہ چولستان کی کھربوں روپے مالیت کی لاکھوں ایکڑ سرکاری اراضی داؤ پر لگادی گئی۔ مس شگفتہ جبیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو )بہاولپور اور شاہد حسن کلیانی منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بہاولپور سمیت پٹواری، گرداور تحصیلدار حلقہ مبینہ طورپر ناجائز قابض گروہ کے سہولت کار بن گئے۔ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے بااثر قبضہ گروپ نے کمشنر عرفان علی کاٹھیا اور ڈپٹی کمشنر سید حسن رضا، ڈی پی او، ڈی ایس پی یزمان اور ایس ایچ او تھانہ ڈراور کو بےبس کردیا ۔تفصیلات کے مطابق شکارگاہ چولستان ضلع بہاولپور کھربوں روپے مالیت کی لاکھوں ایکڑ سرکاری اراضی حکومت پنجاب ( لینڈ کمیشن ) کی ملکیت قرار پاچکی ہے ۔سول کورٹس سے لیکر سپریم کورٹ تک سرکاری اراضی تسلیم شدہ ہے۔ لینڈ مافیا کے غیر قانونی انتقالات خارج ہوچکے ہیں۔ ماہ جون 2026 میں چک نمبر 132 ڈی این بی تحصیل یزمان ضلع بہاولپور میں تمام تر قانونی کاروائی کے بعد 40 کنال زمین لینڈ مافیا کے قبضے سے واگزار کروانے کے بعد محکمہ تعلیم کے حوالے کی گئی جو گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کیلئے مختص کردی گئی۔ لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کیلئے مرتب شدہ تمام رپورٹس عملہ فیلڈ ریونیو افسران منیجنگ ڈائریکٹر سی ڈی اے اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو بہاولپور نے سرکاری زمین قرار دیتے ہوئے 40 کنال زمین سکول کو دی مگر بعد ازاں حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے بااثر قبضہ گروپ کی درخواست پر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کیلئے دی گئی 40 کنال زمین پٹواری، گرداور ،تحصیلدار، ایم ڈی چولستان اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو بہاولپور نے لینڈ مافیا کو واپس کردی کہ یہ سرکاری زمین نہیں ہے بلکہ پرائیویٹ زمین ہے اس طور پر لینڈ مافیا نے موقع پر جدید ناجائز تعمیرات اور ہل چلا کر قبضہ واپس لے لیا ہے۔مبینہ طورپر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو بہاولپور اور منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بہاولپور کی تعیناتی لینڈ مافیا کی فرمائش پر انکی سہولت کاری کیلئے حکومتی پارٹی کے قبضہ گروپ نے کروائی ہے اور انکی پشت پناہی انتہائی طاقتور لوگ کررہے ہیں ۔متعدد بار متذکرہ بالا حکام افسران کو 40 کنال زمین پر قبضہ کرنے کی بابت اطلاع دی گئی مگر سب نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ یہاں پر امر قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ نے شکار گاہ چولستان کے لاکھوں ایکڑ سرکاری اراضی پر قابض سابق امیر آف بہاولپور کے وارثان اور ان وارثان سے اسٹام پیپرز پر سرکاری زمین خریدنے والوں کی تمام اپیلیں خارج کردی ہیں اور سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں ڈویژن بنچ میں نواب صلاح الدین عباسی میاں عثمان عباسی وغیرہ کی جانب سے انڈر ٹیکنگ دی گئی ہے کہ زرعی اصلاحات کے تحت زائد رقبہ منہا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر پھر بھی متذکرہ بالا حکام افسران عملہ فیلڈ ملکی وسیع تر مفاد کی بجائے ذاتی مالی مفاد اور اپنی اپنی کرسی بچانے کیلئے طاقتور لینڈ مافیا کی آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں