لیہ ( قوم ریسرچ سیل )بڑے فراڈ میں ملوث لینڈ مافیا کے گرد شکنجہ ٹائٹ ، لیہ میں کھربوں روپے کی کرپشن بے نقاب،نیب افسران نے ڈی سی آفس میں ڈیرے ڈال لیے، کلیموں کی الاٹمنٹ کے بعد ٹی ڈی اے اراضی کی حق واپسی کی آڑ میں بڑے گھپلے پکڑے گئے ، محافظ خانے کی 4ہزار مثل جات کی سکروٹنی جاری ، 1250مثلوں کی جانچ پرکھربوں روپے مالیتی 23ہزارایکڑ اراضی کی بوگس ایڈجسٹمنٹ سامنے آگئی ، اراضی بحق سرکار ضبط کرنے ، انتقالات خارج کرنیکی تیاریاں شروع ہوگئیں۔تفصیلات کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن کے ساتھ ساتھ ادارہ نیب کی طرف سے بھی کرپٹ مافیااو رکرپٹ پریکٹس کیخلاف بڑی کاروائیوں کا آغاز کردیاگیاہے ، ریونیو کی جنت کہلانے والے لیہ میں پہلے تقسیم ہند کے موقع پر کلیم کی صورت اراضی کی الاٹمنٹ پر سیکڑوں فراڈ کیے گئے اسی طرح 1958 میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام پر لوکل مالکان سے زمینوں کی آبادکاری کیلےئے سرکار کی جانب سے لی گئی اراضی کی تقسیم کے مارجن فارمولے کے تحت حق واپسی کی صورت ایڈجسٹمنٹ میں بھی بڑے فراڈ سامنے آئے ہیں ، 2015ئ میں میڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے سیکنڈل میں محافظ خانے میں 5سو مثلہ جات کے جعلی ہونے اور نتھی بے کی صورت سیکڑوں ریونیو وعدالتی بوگس فیصلہ جات شامل کرکے لینڈ مافیا اور ڈی سی آفس عملے و ریونیو افسران کی ملی بھگت سے فراڈ کیاجانا ثابت ہوا اور 377مثلہ جات کے جعلی ہونے اور بوگس وجعلی 563فیصلہ جات مثلوں کا حصہ بنانے کامعاملہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں سامنے آنے پر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے 14ارب روپے کی اراضی کے انتقالات خارج وزمین بحق سرکار ضبط کی ،مذکورہ فارمولے کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی احتساب بیورو کے افسران کی لیہ میں موجود ٹیم کی جانب سے محافظ خانے کی سکروٹنی کے عمل کو مکمل کیاجارہاہے ، معلومات کے مطابق اب تک بارہ سو پچاس مثلہ جات کی سکروٹنی کرلی گئی ہے جس میں 23ہزار ایکڑ رقبہ زائد از استحقاق کی صورت لینڈ مافیا کو ایڈجسٹ کیے جانے کافراڈ سامنے آیاہے ، مذکورہ کرپشن کی مالیت کھربوں روپے بنتی ہے ، سرکاری ریکارڈ کے مطابق تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی لوکل مالکان سے حاصل کی گئی کل اراضی دولاکھ ترپن ہزار سات سوو انہتر ایکڑ تھی ، صرف بارہ سو پچاس مثلہ جات کی سکروٹنی پر 23ہزار ایکڑ اراضی زائد از استحقاق ایڈجسٹ ہونا پائی گئی ہے ، 28سو سے زائد مثلہ جات کی سکروٹنی ہونا باقی ہے ، یوں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد ایکڑ اراضی زائد از استحقاق یا بوگس حق واپسی کی صورت لینڈ مافیا کو ایڈجسٹ کی گئی ہے جو کھربوں روپے مالیت کی بنتی ہے ، نیب افسران کے مطابق سابق ڈپٹی کمشنر اظفر ضیائ کی جانب سے اخراج کیے گئے انتقالات سمیت اب تک 2645ایکڑ اراضی نہ صرف بحق سرکار ضبط کرلی گئی ہے بلکہ تمام انتقالات خارج کردیئے گئے ہیں ، افسران کے مطابق پہلے مرحلے میں اب تک سکروٹنائز کی گئی 23ہزار ایکڑ اراضی کو پہلے بحق سرکار ضبط اور انتقالات خارج کیے جائینگے اورعملاً اراضی کی واگزاری کے عمل کو بھی یقینی بنایاجائے گا، دوسرے مرحلے میں سکروٹنی کاعمل دوبارہ شروع کیاجائے گا، معلومات کے مطابق نظام کے ڈیجیٹلائز ہونے سے قبل پٹواریوں ، ریونیوافسران ، ڈی سی آفس کے عملے اور لینڈ مافیا نے ملکر لیہ میں بڑے پیمانے پر فراڈ کیے ، بھاری رشوت لیکر اپنی جیبیں گرم کیں اور بوگس الاٹمنٹ وایڈجسٹمنٹ کی جاتی رہیں ، لیہ میں جعلی کلیموں کے سیکڑوں کیسز ابھی بھی عدالتوں میں زیرسماعت ہیں لیکن کلیموں کی الاٹمنٹ کو روک دیئے جانے پر اب یہ سلسلہ کسی حد تک تھم چکا ہے لیکن حق واپسی کی صورت ایڈجسٹمنٹ کا سلسلہ ابھی جاری ہے ، دادا کی جانب سے خریدی گئی زمینوں پر پوتے کیس لڑنے میں مصروف ہیں ، لینڈ مافیا اورسرکاری عملے کی ملی بھگت سے سول کورٹ سے سپریم کورٹ اور ریونیو کورٹ سے ایس ایم بی آر کی عدالت تک لیہ کے کیسز کی بھرمار ہے ، پٹواریوں کی جانب سے غلط گوشوارے بناکر لینڈ مافیا کی مدد سے فراڈ پرفراڈ کیے گئے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملوث پٹواریوں ، ریونیوافسران ، لینڈ مافیا کے ارکان او رڈی سی آفس عملے کے متعلقہ برانچز کے اہلکاران کے خلاف بھی محکمانہ وقانونی کاروائی عمل میں لائی جائے ، یہاں یہ سوال بھی اٹھایاجارہاہے کہ بوگس الاٹمنٹ وایڈجسٹمنٹ کرانیوالے افراد دار ِ فانی سے کوچ کر چکے ، اراضی ایک کے بعد ایک اور کئی افراد کو بیع ہوچکی ، نئے مشتریان نے اراضی خرید کی جن کا شاید قصور نہیں ، جنکے استحقاق کو بھی اداروں کو مدنظررکھناہوگا۔







