بی زیڈ یو پرو وائس چانسلر نامزدگی پھراُلجھ گئی، سنیارٹی ریکارڈ پر 2 دن میں جواب طلب
Post Views:55
ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پرو وائس چانسلر کی نامزدگی کا معاملہ سنیارٹی کے ریکارڈ، تقرری کی تاریخ اور 2002ء کی سنیارٹی پالیسی کے حوالے سے ایک بار پھر الجھ گیا ہے، پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کے موقف پر مزید وضاحتیں طلب کرتے ہوئے مبینہ طور پر برسوں سے جاری اینٹی ڈیٹڈ سنیارٹی کے معاملے کو بھی دوبارہ مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ سرکاری مراسلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرو وائس چانسلر کی نامزدگی کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں کے مختلف فیصلوں اور مراسلات سے گزرتا ہوا اب ایک ایسے مرحلے میں پہنچ گیا ہے جہاں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے یونیورسٹی سے متعلقہ ریکارڈ صرف دو روز میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس معاملے کی بنیادی کڑی 2002ء سے جڑتی ہے، جب بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی سینیڈیکیٹ/متعلقہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی سنیارٹی کے تعین کے حوالے سے ایک پالیسی فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں اسی پالیسی کے تحت سنیارٹی کے تعین کا طریقہ کار اختیار کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم موجودہ تنازع اس امر پر پیدا ہوا کہ کسی پروفیسر کی اصل تاریخِ تقرری/جوائننگ اور سنیارٹی کی تاریخ ایک ہی چیز ہے یا دونوں الگ الگ بنیادوں پر متعین کی جا سکتی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق 17 جولائی 2019ء اور 21 اپریل 2020ء کو چانسلر کی جانب سے اینٹی ڈیٹڈ سنیارٹی کی مشق کو ختم کرنے کے حوالے سے ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں۔ موجودہ معاملے میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بعد میں یونیورسٹی سے یہی وضاحت طلب کی کہ اگر چانسلر کی جانب سے ایسی سنیارٹی ختم کرنے کی ہدایات پہلے ہی جاری ہو چکی تھیں تو اس کے باوجود یونیورسٹی میں اینٹی ڈیٹڈ سنیارٹی دینے کی روایت کس طرح جاری رہی۔ معاملہ اس وقت دوبارہ نمایاں ہوا جب 22 فروری 2023ء کو چانسلر نے پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر بائیولوجی اینڈ بائیوٹیکنالوجی، کو بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا پرو وائس چانسلر نامزد کیا۔ دستاویز کے مطابق یہ نامزدگی بی زیڈ یو ایکٹ 1975ء کے سٹیچوٹ 15(1) کے تحت تین سال یا سپراینویشن تک، جو بھی پہلے ہو، کی مدت کے لیے کی گئی تھی۔ مذکورہ سٹیچوٹ میں درج ہے کہ چانسلر یونیورسٹی کے تین سینئر ترین پروفیسرز میں سے پرو وائس چانسلر نامزد کریں گے۔ بعد ازاں 23 ستمبر 2024ء کو پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی بطور وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور تقرری ہوگئی اور انہوں نے وہاں جوائن کرلیا، جس کے نتیجے میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں پرو وائس چانسلر کا عہدہ خالی ہوگیا۔ اس خالی آسامی پر نئی نامزدگی کے لیے بی زیڈ یو انتظامیہ نے تین سینئر ترین پروفیسرز کا پینل تیار کیا۔ یونیورسٹی کی جانب سے 15 جولائی 2026ء کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کردہ مراسلے میں پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد، پروفیسر ڈاکٹر ناظم حسین اور پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق زین کے نام بطور تین سینئر ترین پروفیسرز پیش کیے گئے۔ مراسلے میں پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد کی بطور پروفیسر تقرری کی تاریخ 28 مئی 2011ء، پروفیسر ڈاکٹر ناظم حسین کی 9 نومبر 2012ء اور پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق زین کی بھی 9 نومبر 2012ء درج کی گئی، جبکہ ریٹائرمنٹ کی تاریخیں بالترتیب 31 مارچ 2030ء، 25 دسمبر 2027ء اور 17 دسمبر 2029ء بتائی گئیں۔ یونیورسٹی نے ان تینوں کے سی وی بھی ارسال کرتے ہوئے چانسلر سے پرو وائس چانسلر کی نامزدگی کی منظوری حاصل کرنے کی درخواست کی۔ تاہم یہ معاملہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے اتنا سادہ نہ رہا۔ 12 اگست 2026ء کو پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار اکیڈمکس کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے سنیارٹی ریکارڈ پر باقاعدہ اعتراضات اٹھائے۔ محکمہ نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ سنیارٹی لسٹ میں پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے اور ان کی سنیارٹی کی تاریخ 28 مئی 2011ء درج ہے، لیکن ان کی بطور پروفیسر جوائننگ کی تاریخ 2 اگست 2016ء ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری طرف سنیارٹی لسٹ میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود پروفیسر ڈاکٹر ناظم حسین اور پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق زین کی بطور پروفیسر جوائننگ کی تاریخ 21 مارچ 2013ء بیان کی گئی۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے 12 اگست کے مراسلے میں بی زیڈ یو ایکٹ 1975ء کے سیکشن 15(1) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ چونکہ پروفیسر کی پوسٹ براہِ راست تقرری کے ذریعے پُر کی جاتی ہے، اس لیے اس مقصد کے لیے سنیارٹی عموماً بطور پروفیسر تقرری کی تاریخ سے شمار ہونی چاہیے۔ چنانچہ محکمہ نے یونیورسٹی کو معاملہ دوبارہ سختی سے ایکٹ کے مطابق جانچنے اور اسی بنیاد پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ اس اعتراض کے جواب میں بی زیڈ یو کی جانب سے 17 اگست 2026ء کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ایک نیا مراسلہ بھجوایا گیا جس میں یونیورسٹی نے موقف اختیار کیا کہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد کی بطور پروفیسر درست تاریخِ جوائننگ 9 ستمبر 2012ء ہے اور پہلے ریکارڈ میں 2 اگست 2016ء کا اندراج غلطی سے ہوگیا تھا۔ یونیورسٹی نے تینوں پروفیسرز کی ایک نئی لسٹ بھی فراہم کی جس میں ڈاکٹر جاوید احمد کی جوائننگ 09.09.2012ء جبکہ ان کی سنیارٹی 28.06.2011ء درج کی گئی، ڈاکٹر ناظم حسین کی جوائننگ 21.03.2013ء اور سنیارٹی 09.11.2012ء جبکہ ڈاکٹر عمر فاروق زین کی جوائننگ 21.03.2013ء اور سنیارٹی 09.11.2012ء درج کی گئی۔ یونیورسٹی نے اپنے جواب میں مزید موقف اختیار کیا کہ 2002ء میں سینیڈیکیٹ/مجاز اتھارٹی کی پالیسی کے تحت پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی سنیارٹی متعلقہ اشتہار کی اختتامی تاریخ کے چار ماہ بعد یکساں طور پر متعین کی جاتی رہی ہے، اس لیے تاریخِ جوائننگ اور تاریخِ سنیارٹی کو الگ الگ سمجھا جانا چاہیے۔ یونیورسٹی نے اسی بنیاد پر تینوں پروفیسرز کی سنیارٹی درست قرار دیتے ہوئے پرو وائس چانسلر کی نامزدگی کا کیس دوبارہ غور اور نامزدگی کے لیے پیش کردیا۔ لیکن معاملہ یہاں بھی ختم نہ ہوا۔ 31 اگست 2026ء کو پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک اور تفصیلی مراسلہ جاری کرتے ہوئے بی زیڈ یو کے مؤقف پر مزید وضاحت طلب کرلی۔ محکمہ نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کا کیس دوبارہ جانچنے کے بعد تین بنیادی سوالات سامنے آئے ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ محکمہ نے پہلے سوال میں پوچھا کہ اگر سنیارٹی کا تعین تاریخِ جوائننگ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے تو تاریخِ جوائننگ اور تاریخِ سنیارٹی کو الگ الگ معاملات کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ دوسرے اہم سوال میں محکمہ نے دریافت کیا کہ 2002ء میں سینیڈیکیٹ کی جانب سے اینٹی ڈیٹڈ سنیارٹی دینے سے متعلق جو فیصلہ کیا گیا تھا، کیا اسے یونیورسٹی کے سٹیچوٹس میں شامل کرکے بی زیڈ یو ایکٹ 1975ء کے سیکشن 31(2)(ii) کے تحت چانسلر سے باقاعدہ منظوری حاصل کی گئی تھی؟ محکمہ نے واضح کیا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو تمام پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی سنیارٹی بی زیڈ یو ایکٹ 1975ء اور اس کے تحت باقاعدہ منظور شدہ سٹیچوٹس کے مطابق سختی سے متعین کی جانی چاہیے۔ تیسرے اور نہایت اہم سوال میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پوچھا کہ 17 جولائی 2019ء اور 21 اپریل 2020ء کو چانسلر کی جانب سے اینٹی ڈیٹڈ سنیارٹی کی مشق ختم کرنے کی ہدایات جاری ہونے کے باوجود یونیورسٹی میں یہ طریقہ کار کس طرح جاری رہا؟ یوں پرو وائس چانسلر کی نامزدگی کا معاملہ محض تین سینئر پروفیسرز میں سے کسی ایک کے انتخاب تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے یونیورسٹی میں سنیارٹی طے کرنے کے پورے طریقہ کار، 2002ء کی پالیسی، اس کی قانونی حیثیت، چانسلر کی 2019ء اور 2020ء کی ہدایات اور سنیارٹی و جوائننگ کی مختلف تاریخوں کو ایک بار پھر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 31 اگست 2026ء کے مراسلے میں بی زیڈ یو سے مذکورہ وضاحتوں اور متعلقہ دستاویزات دو دن کے اندر لازماً جمع کرانے کی ہدایت کی ہے تاکہ محکمہ معاملے میں مزید کارروائی کرسکے۔ سرکاری مراسلات کی زمانی ترتیب سے واضح ہوتا ہے کہ پہلے یونیورسٹی نے تین سینئر ترین پروفیسرز کا پینل پیش کیا، محکمہ نے سنیارٹی ریکارڈ پر اعتراض اٹھایا، یونیورسٹی نے تاریخِ جوائننگ اور سنیارٹی میں فرق کی وضاحت کرتے ہوئے ریکارڈ درست کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن محکمہ نے اس وضاحت کو حتمی تسلیم کرنے کے بجائے 2002ء کی پالیسی کی قانونی حیثیت اور سابقہ چانسلر ہدایات کی روشنی میں مزید سوالات اٹھا دیے۔ اب اصل فیصلہ اس بات پر منحصر دکھائی دیتا ہے کہ بی زیڈ یو انتظامیہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تین بنیادی سوالات کے جواب میں 2002ء کے سینیڈیکیٹ فیصلے، اس کی سٹیچوٹس میں شمولیت، چانسلر کی منظوری، 2019ء اور 2020ء کی ہدایات اور تینوں پروفیسرز کی اصل تقرری و سنیارٹی کا مستند ریکارڈ کس طرح پیش کرتی ہے۔ یوں پرو وائس چانسلر کی نامزدگی کی دوڑ میں سب سے اہم سوال یہ بن گیا ہے کہ قانونی طور پر “تین سینئر ترین پروفیسرز” کا تعین کس تاریخ اور کس منظور شدہ سٹیچوٹس کے تحت ہوگا؟ اور اسی سوال کے جواب کے بعد ہی بی زیڈ یو میں خالی پرو وائس چانسلر کے عہدے پر نئی نامزدگی کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔