ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں انتظامی معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جہاں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے چار اسسٹنٹ پروفیسرز کو مبینہ
طور پر ’’غیر قانونی اجتماع‘‘ منعقد کرنے اور انتظامیہ کے خلاف سیاست کرنے کے الزام میں وضاحتی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ نوٹس ڈاکٹر محمد آصف، اسسٹنٹ پروفیسر ریاضی، ڈاکٹر محمد عرفان جاوید، اسسٹنٹ پروفیسر اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس، ڈاکٹر محمد نعیم جاوید، اسسٹنٹ پروفیسر میڈیا اینڈ کمیونیکیشنز، اور ڈاکٹر محمد عمران، اسسٹنٹ پروفیسر پولیٹیکل سائنس، کو جاری کیا گیا ہے۔رجسٹرار آفس کے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’کمپیٹنٹ اتھارٹی‘‘ کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ مذکورہ اساتذہ نے ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز میں فیکلٹی کا ایک مبینہ غیر قانونی اجتماع منعقد کیا، جس میں انہوں نے انتظامیہ کے خلاف تحقیقاتو سیاست کیں۔ نوٹس میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے اسٹیچیوٹس کے تحت اس نوعیت کے اجتماع اور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ انتظامیہ نے چاروں اساتذہ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ان کے خلاف متعلقہ تادیبی قواعد کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ نوٹس کے مطابق اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین ورکنگ دنوں کے اندر اپنا جواب جمع کرائیں تاکہ اسے مزید کارروائی کے لیے وائس چانسلر کو بھجوایا جا سکے۔ تاہم اس معاملے نے یونیورسٹی کے اندر ایک بنیادی سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ کیا کسی انتظامی معاملے پر اساتذہ کا اکٹھا ہونا یا انتظامیہ کے اقدامات کے بارے میں سوالات اٹھانا بذاتِ خود ’’غیر قانونی اجتماع‘‘ یا ’’سیاسی سرگرمی‘‘ کے زمرے میں آتا ہے؟ اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نوٹس میں کسی مخصوص شق، ضابطے یا اسٹیچیوٹ کا حوالہ واضح طور پر درج نہیں کیا گیا، جس کے تحت مبینہ اجتماع کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ تعلیمی حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر اساتذہ نے انتظامیہ کے کسی اقدام کی چھان بین یا اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا تو کیا انہیں پہلے اپنا مؤقف تفصیل سے بیان کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا یا براہِ راست تادیبی کارروائی کی طرف بڑھنا مناسب ہے۔اساتذہ پر انتظامیہ کے خلاف ’’تحقیقات‘‘ کرنے کا الزام کس بنیاد پر عائد کیا گیا اور کون سا مخصوص یونیورسٹی ضابطہ اس مبینہ سرگرمی کی ممانعت کرتا ہے۔







