فیصل آباد (قوم رپورٹ) فیصل آباد کی راجپوت برادری سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری نے اپنے خاندان میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کینیڈا اور پاکستان میں نومولود بچوں کو حاصل سہولیات اور معاشی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔شہری کے مطابق وہ اپنے بچوں کے ہمراہ کینیڈا میں مقیم ہیں جبکہ ان کی ایک بیٹی پاکستان میں بیاہی ہوئی ہے۔ اسی دوران کینیڈا میں مقیم ان کے بیٹے کے ہاں بیٹے جبکہ پاکستان میں مقیم بیٹی کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ان کے مطابق کینیڈا میں پیدا ہونے والا بچہ سرکاری ہسپتال میں پیدا ہوا جہاں اس کی پیدائش پر انہیں کوئی رقم خرچ نہیں کرنا پڑی جبکہ پاکستان میں ان کی نواسی کی پیدائش نجی ہسپتال میں ہوئی اور اس سلسلے میں ایک لاکھ 93 ہزار روپے کا بل ادا کرنا پڑا۔شہری نے مزید بتایا کہ کینیڈا کے قانون کے مطابق پیدا ہونے والے بچے کے اکاؤنٹ میں پاکستانی تقریباً اڑھائی لاکھ روپے کے برابر رقم آتی ہے، جس کے باعث ان کا پوتا پیدائش کے ساتھ ہی اس رقم کا حقدار بن گیا۔دوسری جانب ان کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والی ان کی نواسی ملک کے قرض کے حساب سے تقریباً 3 لاکھ 33 ہزار روپے کی مقروض پیدا ہوئی۔شہری نے کینیڈا اور پاکستان کی صورتحال کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کینیڈا میں بچے کی پیدائش سرکاری ہسپتال میں ہوئی اور خاندان کو پیدائش کے موقع پر کوئی رقم خرچ نہیں کرنا پڑیجبکہ دوسری جانب پاکستان میں بچی کی پیدائش نجی ہسپتال میں ہوئی اور ایک لاکھ 93 ہزار روپے کا بل ادا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ اور دین کا محافظ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم ان کے بقول دونوں ممالک میں نومولود بچوں کی پیدائش کے وقت سامنے آنے والی یہ صورتحال ملک کے نظام اور عملی کردار پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔شہری کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے بڑھ کر پاکستان اور کینیڈا کے درمیان معاشی اور عوامی سہولیات کا تقابلی جائزہ پیش کرنا مشکل ہے۔







