بیوہ یا طلاق یافتہ خواتین شادی کرنا چاہیں تو انہیں منفی نگاہ سے نہ دیکھیں: اداکار حمزہ علی عباسی -بیوہ یا طلاق یافتہ خواتین شادی کرنا چاہیں تو انہیں منفی نگاہ سے نہ دیکھیں: اداکار حمزہ علی عباسی -پاکستانی معیشت کو امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہ-پاکستانی معیشت کو امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہ-ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکا کے پیٹریاٹ دفاعی نظام پر دباؤ، انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ-ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکا کے پیٹریاٹ دفاعی نظام پر دباؤ، انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ-عمران خان کی اسپتال منتقلی؛ توہینِ عدالت کیس کی فوری سماعت کی دوسری درخواست بھی مسترد-عمران خان کی اسپتال منتقلی؛ توہینِ عدالت کیس کی فوری سماعت کی دوسری درخواست بھی مسترد-سانحہ پمز: مصطفیٰ کمال نے چند گھنٹوں بعد استعفیٰ دے دیا تھا، وزیراعظم نے منظوری روک دی-سانحہ پمز: مصطفیٰ کمال نے چند گھنٹوں بعد استعفیٰ دے دیا تھا، وزیراعظم نے منظوری روک دی

تازہ ترین

ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکا کے پیٹریاٹ دفاعی نظام پر دباؤ، انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ

واشنگٹن: ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد امریکا کے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اوپن سورس انٹیلی جنس پر مبنی اندازوں کے مطابق اردن کی فضائی حدود کے قریب ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے امریکا نے ایک ہی رات میں بڑی تعداد میں پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج نے تقریباً 32 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک رات کے دوران 96 سے 128 تک انٹرسیپٹرز فائر کیے۔ ایک انٹرسیپٹر کی اندازاً قیمت 40 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے، جس کے حساب سے اس ایک کارروائی پر تقریباً 38 کروڑ سے 64 کروڑ ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو ایرانی میزائل حملے کو ناکام بنانے کی امریکی کوشش انتہائی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے لیے تشویش کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تیاری فوری عمل نہیں، بلکہ نئے میزائل کی تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اوپن سورس رپورٹس کے مطابق امریکی ذخیرے میں تقریباً 900 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز باقی رہ جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے کیونکہ امریکی حکام عام طور پر پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے موجودہ ذخیرے کی درست تعداد ظاہر نہیں کرتے۔
رپورٹس کے مطابق پیٹریاٹ کی ایک مکمل بیٹری میں تقریباً 72 سے 96 انٹرسیپٹرز موجود ہوسکتے ہیں۔ متعدد بیٹریوں اور اضافی ری لوڈز کو شامل کیا جائے تو بڑے حملے کے وقت سینکڑوں انٹرسیپٹرز دستیاب ہوسکتے ہیں، لیکن مسلسل میزائل حملوں کی صورت میں ان ذخائر میں تیزی سے کمی کا خطرہ موجود ہے۔
امریکی سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز بھی ماضی میں اندازہ ظاہر کر چکا ہے کہ بڑے پیمانے پر جنگی استعمال کے بعد امریکا کے پاس ایک ہزار سے کم پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے تھے۔
دفاعی صنعت کو درپیش ایک اہم چیلنج انٹرسیپٹرز کی محدود پیداواری صلاحیت بھی ہے۔ ایک نئے انٹرسیپٹر کی تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جبکہ پیداواری صلاحیت میں بتدریج اضافہ کرکے 2030 تک سالانہ تقریباً 2 ہزار یونٹس تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اگر ایران اسی شدت کے ساتھ مسلسل بیلسٹک میزائل حملے جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن کو اہم دفاعی فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ امریکا کو ایک طرف مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے فوجی اڈوں اور اہلکاروں کے تحفظ کے لیے مہنگے انٹرسیپٹرز بڑی تعداد میں استعمال کرنا ہوں گے، جبکہ دوسری جانب ذخائر میں تیزی سے کمی کا خطرہ بھی برقرار رہے گا۔
ایسی صورتحال میں امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی یا بعض دفاعی ترجیحات کو محدود کرنے پر بھی غور کرسکتا ہے۔ تاہم اس نوعیت کے فیصلوں کے اثرات امریکی فوجی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں موجود اتحادیوں کی سکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں