ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکا کے پیٹریاٹ دفاعی نظام پر دباؤ، انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ-ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکا کے پیٹریاٹ دفاعی نظام پر دباؤ، انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ-عمران خان کی اسپتال منتقلی؛ توہینِ عدالت کیس کی فوری سماعت کی دوسری درخواست بھی مسترد-عمران خان کی اسپتال منتقلی؛ توہینِ عدالت کیس کی فوری سماعت کی دوسری درخواست بھی مسترد-سانحہ پمز: مصطفیٰ کمال نے چند گھنٹوں بعد استعفیٰ دے دیا تھا، وزیراعظم نے منظوری روک دی-سانحہ پمز: مصطفیٰ کمال نے چند گھنٹوں بعد استعفیٰ دے دیا تھا، وزیراعظم نے منظوری روک دی-امام الحق کی نئی انجری پر سوالات، 2025 کی مبینہ جعلی انجری کی انکوائری رپورٹ پھر سامنے آگئی-امام الحق کی نئی انجری پر سوالات، 2025 کی مبینہ جعلی انجری کی انکوائری رپورٹ پھر سامنے آگئی-نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بات ہو رہی ہے تو کیا تیاری بھی ہے؟ فضل الرحمان-نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بات ہو رہی ہے تو کیا تیاری بھی ہے؟ فضل الرحمان

تازہ ترین

سانحہ پمز: مصطفیٰ کمال نے چند گھنٹوں بعد استعفیٰ دے دیا تھا، وزیراعظم نے منظوری روک دی

اسلام آباد: انتہائی باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کے چند گھنٹے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو اپنا تحریری استعفیٰ بھجوا دیا تھا، تاہم وزیراعظم نے استعفیٰ قبول کرنے کے بجائے انہیں انکوائری مکمل ہونے تک ذمہ داریاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے۔ واقعے کے فوری بعد وفاقی وزیر صحت نے وزیراعظم آفس کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کیا اور تحریری طور پر بھی استعفیٰ پیش کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے استعفیٰ منظور کرنے کے بجائے مصطفیٰ کمال کو ہدایت کی کہ سانحے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔ وزیر صحت کو مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک استعفے کی خبر عوامی سطح پر سامنے نہ لائی جائے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ سانحے کے بعد حکومت نے وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کے خلاف کارروائی کی، جبکہ مصطفیٰ کمال بدستور وزارت کے منصب پر موجود رہے۔ بعد ازاں انہوں نے پارلیمنٹ اور میڈیا کے سامنے حکومت کی جانب سے ذمہ داروں کے احتساب کے عزم کا دفاع بھی کیا۔
مصطفیٰ کمال سے رابطہ کرکے استعفیٰ پیش کرنے اور وزیراعظم کی جانب سے اسے قبول نہ کیے جانے سے متعلق مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے پیغامات کا جواب نہیں دیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم سے متعلق اعلیٰ حکام سے بھی رابطہ کیا گیا، جنہوں نے کہا کہ انہیں ایسے کسی استعفے کے بارے میں علم نہیں۔
وفاقی وزیر صحت واقعے کے بعد سے پمز سانحے کی تحقیقات کی حمایت کرتے رہے ہیں اور متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ سینیٹ میں خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ اس سانحے کو چند روز تک جاری رہنے والی کارروائی بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ انہوں نے احتساب کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف عبوری انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد پمز کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چلڈرن اسپتال اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے اعلیٰ حکام سمیت 8 افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جبکہ ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی۔
عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں میں متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں کی نرسری میں آگ لگنے کی صورت میں انخلاء اور ہنگامی کارروائی کے لیے مناسب اور باقاعدہ مشق شدہ طریقہ کار موجود نہیں تھا۔
رپورٹ میں آتشزدگی کی اصل جگہ اور وجوہات جاننے کے لیے مزید تکنیکی اور فرانزک تحقیقات کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت سانحے میں ہلاکتوں کے فوری بعد اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار تھے، تاہم وزیراعظم نے جاری تحقیقات مکمل ہونے اور ذمہ داری طے ہونے تک انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب وفاقی سیکریٹری صحت کے خلاف کارروائی پہلے ہی عمل میں آچکی تھی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں