پاکستانی معیشت کو امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہ-پاکستانی معیشت کو امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہ-ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکا کے پیٹریاٹ دفاعی نظام پر دباؤ، انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ-ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکا کے پیٹریاٹ دفاعی نظام پر دباؤ، انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ-عمران خان کی اسپتال منتقلی؛ توہینِ عدالت کیس کی فوری سماعت کی دوسری درخواست بھی مسترد-عمران خان کی اسپتال منتقلی؛ توہینِ عدالت کیس کی فوری سماعت کی دوسری درخواست بھی مسترد-سانحہ پمز: مصطفیٰ کمال نے چند گھنٹوں بعد استعفیٰ دے دیا تھا، وزیراعظم نے منظوری روک دی-سانحہ پمز: مصطفیٰ کمال نے چند گھنٹوں بعد استعفیٰ دے دیا تھا، وزیراعظم نے منظوری روک دی-امام الحق کی نئی انجری پر سوالات، 2025 کی مبینہ جعلی انجری کی انکوائری رپورٹ پھر سامنے آگئی-امام الحق کی نئی انجری پر سوالات، 2025 کی مبینہ جعلی انجری کی انکوائری رپورٹ پھر سامنے آگئی

تازہ ترین

امام الحق کی نئی انجری پر سوالات، 2025 کی مبینہ جعلی انجری کی انکوائری رپورٹ پھر سامنے آگئی

انگلینڈ میں پاکستان کے بیٹر امام الحق کی حالیہ انجری کے بعد مارچ 2025 میں نیوزی لینڈ کے دورے سے متعلق انکوائری رپورٹ ایک بار پھر منظرِ عام پر آگئی، جس کے باعث ان کی موجودہ انجری کے دعوے پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ماضی کے معاملے کی روشنی میں امام الحق کی تازہ انجری کا بھی جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔ پی سی بی کی انکوائری کمیٹی نے مارچ 2025 میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران امام الحق کو مبینہ طور پر انجری کی علامات بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور جعلی انجری ظاہر کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 28 مارچ 2025 کو انڈور نیٹ پریکٹس کے دوران گیند امام الحق کے دائیں پاؤں کے انگوٹھے پر لگی تھی۔ ایکسرے میں نہ تو فریکچر کی تصدیق ہوئی اور نہ ہی ہڈی کے اپنی جگہ سے ہٹنے کے شواہد سامنے آئے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ طبی عملے کی ہدایت کے باوجود امام الحق مبینہ طور پر افطار کے لیے تقریباً 500 میٹر پیدل گئے۔ بعد ازاں انہوں نے انگوٹھے میں شدید تکلیف اور اس کے سیاہ پڑنے کی شکایت کی۔
رپورٹ کے مطابق ٹیم ڈاکٹر نے مخصوص کیمیکل والے کاغذ سے انگوٹھے کو صاف کیا تو مبینہ سیاہ نشان ختم ہوگیا۔ انکوائری کمیٹی کے مطابق انگوٹھے سے صاف ہونے والا مادہ قدرتی خون کا نشان نہیں بلکہ سیاہی یا مارکر سے متعلق تھا۔
ذرائع کے مطابق امام الحق نے کمیٹی کے سامنے انگوٹھے پر سیاہی یا کسی مصنوعی مادے کے استعمال کی تردید کی، تاہم کمیٹی نے ان کی وضاحت کو طبی شواہد، ایکسرے اور انگوٹھے کی حالت سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا۔
ٹیم حکام کے مطابق امام الحق نگرانی میں لنگڑا کر چلتے ہوئے نظر آتے تھے، جبکہ نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد ان کا چلنا معمول کے مطابق دکھائی دیتا تھا۔
انکوائری کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ امام الحق کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے کے لیے ان فٹ قرار دینے کی کوئی واضح طبی بنیاد موجود نہیں تھی۔ کمیٹی نے انہیں انجری کی علامات مصنوعی طور پر ظاہر کرنے، انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور طبی عملے کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امام الحق نے مبینہ طور پر جان بوجھ کر خود کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے سے باہر رکھنے کی کوشش کی۔ کمیٹی نے تمام فارمیٹس اور ہر سطح پر پاکستان کی نمائندگی سے پابندی کی سفارش بھی کی تھی اور اس عمل کو دانستہ، منصوبہ بندی پر مبنی اور دھوکا دہی قرار دیا تھا۔
امام الحق کی حالیہ انجری کے دعوے کے بعد 2025 کی یہ انکوائری رپورٹ دوبارہ بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ماضی کے تنازع میں یہ الزام بھی سامنے آیا تھا کہ امام الحق نیوزی لینڈ کی تیز رفتار اور مشکل پچز پر اوپننگ کرنے سے گریز کرنا چاہتے تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں