کھٹمنڈو: نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 469 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد کے تاحال لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کئی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
امدادی اداروں کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد سڑکیں اور پل تباہ ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک زمینی رسائی ممکن نہیں رہی اور بعض مقامات پر امدادی ٹیمیں صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچ سکتی ہیں۔
شدید تباہی کے باوجود نیپالی وزارت خارجہ نے فی الحال دوسرے ممالک سے امداد لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے مدد کی پیشکش کرنا ایک فطری عمل ہے، جبکہ ملک کی سکیورٹی فورسز سرچ اور ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب نیپالی فوجی حکام نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے لیے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق جھیل کے اوورفلو ہونے کے باعث نیپال اور تبت سے متصل سرحدی علاقوں میں مزید سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ دریائے بھوٹے کوشی کا راستہ ملبے سے بند ہونے کے بعد بننے والی جھیل میں پانی کی سطح بلند ہوگئی اور وہ اوورفلو ہونا شروع ہوگئی۔
ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ ملبے سے دریا کا راستہ بند ہونے کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے کنارے بھی متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث امدادی کارروائیوں کو کچھ وقت کے لیے روکنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ گرنے سے برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کا وسیع ریلا ہمالیائی دریاؤں میں شامل ہوگیا، جس کے باعث نیپال میں مزید سیلاب اور تباہی کا خطرہ برقرار ہے۔







