ملکی نظام گل سڑ گیا، روزانہ 1300 بچے مررہے ہیں، آئیں مل بیٹھ کر ان کو بچائیں:وفاقی وزیر صحت

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ اجلاس میں ملک کے نظامِ صحت کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں روزانہ تقریباً 1300 بچے جان کی بازی ہار رہے ہیں، ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مل بیٹھنا ہوگا تاکہ مزید بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ آج رات سامنے آ جائے گی، جس کے بعد ارکان رپورٹ کا جائزہ لے کر خامیوں کی نشاندہی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سمیت کسی کی بھی نیت سانحہ پمز میں ملوث کسی فرد کو تحفظ دینے کی نہیں، اگر کوئی ذمہ دار ثابت ہوا تو اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی، کسی بھی طاقتور یا بااثر شخص کو بچایا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں کی خاطر کسی کی پشت پناہی نہیں کی جائے گی، اپوزیشن حکومت کو رہنمائی دے اور واضح روڈ میپ فراہم کرے تاکہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ افسران کو جواب دہ بنایا جائے گا اور کسی رکن اسمبلی یا سینیٹر کو کسی افسر کے تبادلے یا کارروائی رکوانے کے لیے فون نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اداروں میں ہر شخص کسی نہ کسی سیاسی شخصیت کا سفارشی بن کر موجود ہے، اس رویے کو ختم کرنا ہوگا۔
پمز واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سانحے میں 15 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک بچے کو ہسپتال کے اسٹاف نے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بطور وزیر صحت خود کو بھی اس معاملے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور اسی لیے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اپوزیشن اپنی کمیٹی بنائے اور تحقیقات کرے، تاہم معاملے کو 40 روز کی مدت تک محدود نہ رکھا جائے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مثالی حالات کا دعویٰ کوئی نہیں کر رہا، لیکن بچوں کی اتنی بڑی تعداد میں اموات ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بچوں کی یومیہ اموات کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال تشویشناک ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ اگلے بچے کی جان بچائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں مسلسل شریک رہے ہیں اور کسی اجلاس کو نظر انداز نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام شدید خرابی کا شکار ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔ ان کے مطابق بہت سی اموات کو روکا جا سکتا ہے، اس لیے پمز سانحے کی تحقیقات کو صرف تاریخوں اور کمیٹیوں تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ ذمہ داروں کا تعین کرکے عملی اصلاحات بھی کی جانی چاہئیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں