فائر سیفٹی آفیسر بغیر ڈپلومہ تعینات، نشتر ہسپتال میں بڑے حادثے کا خدشہ

ملتان(وقائع نگار)پمز ہسپتال اسلام آباد سانحہ کے بعد ایک طرف پنجاب بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی سے متعلق اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں تو دوسری جانب نشتر ہسپتال ملتان میں فائر سیفٹی کا نظام خطرے میں ہے جہاں پر ایک غیر تربیت یافتہ شخص کو فائر سیفٹی آفیسر تعینات کیا ہوا ہے اور اس کے پاس فائر سیفٹی سے متعلقہ ڈپلومہ اور تجربہ بھی نہیں ہے ذرائع کے مطابق مذکورہ افسر محمد ارشاد جو کہ ایوننگ شفٹ میں سکیورٹی انچارج ہیں کے پاس نہ تو فائر سیفٹی کا کوئی ڈپلومہ ہے اور نہ ہی انہیں آگ بجھانے والے آلات کا علم ہے جبکہ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آفیسر کی سیٹ پر صرف اسی شخص کو تعینات کیا جاتا ہے جس کے پاس فائر سیفٹی کا ڈپلومہ ہو اور وہ آگ بجھانے، ریسکیو اور ایمرجنسی پلان کو جانتا ہو۔نشتر ہسپتال کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہاں فائر سیفٹی آفیسر کی سیٹ پر ایک ایسے شخص کو لگایا گیا ہے جو غیر تربیت یافتہ ہے اور اسے آگ بجھانے والے آلات کا بھی صحیح طریقے سے علم نہیں ہے طبی ماہرین اور ہسپتال کے عملے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشتر جیسے بڑے ٹیچنگ ہسپتال میں جہاں روزانہ ہزاروں مریض، اٹینڈنٹ اور عملہ موجود ہوتا ہے، وہاں فائر سیفٹی جیسے اہم شعبے میں ناتجربہ کار شخص کی تعیناتی کسی بڑے حادثے کو دعوت دے سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں