اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں سینیٹر فلک ناز چترالی نے سانحہ پمز پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کے دو بڑے اسپتال بھی بہتر انداز میں نہیں چلائے جا رہے جبکہ نیا صوبہ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی موجودگی میں گفتگو کرتے ہوئے فلک ناز چترالی نے کہا کہ وزیر صحت ایوان میں پمز کی تعریفیں کر رہے تھے، حالانکہ اسپتال کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال پر حکام کو شرمندگی محسوس کرنی چاہیے۔
سینیٹر فلک ناز نے دعویٰ کیا کہ وہ سانحے کے روز خود پمز گئی تھیں جہاں سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں اور دیگر افراد کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ ان کے مطابق بچوں کو شاپنگ بیگز میں ان کے والدین کے حوالے کیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ کسی کو واقعے کے بارے میں نہ بتایا جائے اور وہاں سے چلے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پمز میں پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری وزیر صحت اور حکومت پر عائد ہوتی ہے اور معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
دوسری جانب سینیٹر سعدیہ عباسی نے بھی سینیٹ اجلاس میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اس تقرری کے لیے بنائے گئے بورڈ کا حصہ تھیں اور انہوں نے اس تعیناتی کی سخت مخالفت کی تھی۔
سعدیہ عباسی کے مطابق بیوروکریسی نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کی بھرپور حمایت کی، جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتہائی بااثر شخصیت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سیکرٹری صحت کو معطل کر دیا، تاہم پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو معطل نہیں کیا جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی رسائی بہت بااثر حلقوں تک ہے، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائی مشکل نظر آتی ہے۔
سعدیہ عباسی نے الزام عائد کیا کہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سانحہ کے ذمہ دار ہیں اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے، حتیٰ کہ انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔







