واشنگٹن: امریکا کا نیا اور جدید فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل AIM-424 Malice منظر عام پر آگیا ہے، جسے انتہائی طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا میزائل قرار دیا جارہا ہے۔
ڈیفنس نیوز ویب سائٹ ٹی ڈبلیو زیڈ کے مطابق امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک تصویر میں نیوی ائیر ٹیسٹ اینڈ ایویلیوایشن اسکواڈرن 23 کا F/A-18 Super Hornet طیارہ چار AIM-424 میزائلوں سے لیس دکھائی دیا ہے۔
امریکی بحریہ کی ایک اور جاری کردہ تصویر میں یہی میزائل جدید F-35C جنگی طیارے کے ویپنز بے میں نصب نظر آیا۔
رپورٹ کے مطابق AIM-424 Long Range Air-to-Air Missile (LRAAM) اس وقت آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے۔ اسے F/A-18 Super Hornet، F-35C Joint Strike Fighter اور مستقبل کے F/A-XX نیکسٹ جنریشن نیول فائٹر کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ AIM-424 سائز میں موجودہ AIM-120 AMRAAM اور نئے AIM-260 JATM کے مقابلے میں بڑا ہے اور اس کی مار کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ بتائی جارہی ہے۔
پینٹاگون طویل عرصے سے زیادہ فاصلے تک فضا سے فضا میں کارروائی کرنے والے جدید میزائلوں کی تیاری پر توجہ دے رہا ہے۔ امریکی منصوبوں میں مستقبل میں ایسے میزائل تیار کرنا بھی شامل ہے جو انتہائی طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق چین کے مقابلے میں امریکی فضائی جنگی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے شعبے میں برتری حاصل کرنا پینٹاگون کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
امریکی بحریہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق AIM-424 کا وزن تقریباً 1500 پاؤنڈ جبکہ اس کی رینج 250 ناٹیکل میل، یعنی 463 کلومیٹر سے زائد بتائی گئی ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ میزائل کی اصل صلاحیت اور بالخصوص اس کی رینج کو خفیہ معلومات کے تحفظ یا کاؤنٹر انٹیلی جنس مقاصد کے تحت عوام کے سامنے کم ظاہر کیا گیا ہو۔







