ملتان (روزنامہ قوم ریسرچ سیل) ہمارا ہمسایہ ملک بھارت جس کے پاس پاکستان کی نسبت کھارے پانی کی مقدار کم ہے، پانچ ارب ڈالر سے زائد کا سالانہ جھینگا ایکسپورٹ کر رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان اپنی سمندری ساحلی زمینوں اور خاص طور پر پنجاب جس میں زیر زمین چار ملین ایکڑ کھارا پانی صوبے بھر کے مختلف حصوں میں موجود ہے، سے آج تک کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھا سکا اور فارمنگ سے پیدا شدہ جھینگے کی ایکسپورٹ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔سابق پنجاب حکومت نے صوبے کے مختلف حصوں میں موجود کھارے پانی جو کہ جھینگا فارمنگ کے لیے انتہائی موزوں ہوتا ہے کی بڑے پیمانے پر موجودگی کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے جھینگا فارمنگ کے لیے پرائیویٹ فارمرز کو آٹھ لاکھ روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی۔ موجودہ حکومت نے یہ فیصلہ تبدیل کیا اور یہ اعلان کیا کہ حکومت جھینگا فارمنگ کے لیے تقریباً پانچ ہزار ایکڑ زمین پر تالاب تو خود بنائے گی مگر لوگوں کو اسے لیز پر دے گی پھر یہ فیصلہ بھی تبدیل ہوا اور نیا حکم کچھ اس قسم کا صادر ہوا کہ حکومت خود تالاب بنا کر پہلے ایک ہزار ایکڑ پر ازخود فارمنگ کرے گی جسکے نتیجے میں قرضوں میں ڈوبے ہوئے پاکستان میں چند ارب سے شروع ہونے والا منصوبہ 60 ارب سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ تالاب بنانے میں بھی بے شمار بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس میں مہنگے داموں ٹھیکے دینا اور امپورٹڈ مشینری منگوانا شامل ہے۔ تالاب میں آکسیجن کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے ائیر ریٹرز (Aerators) جنکی قیمت سوا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ فی مشین ہے، اسے ساڑھے چار لاکھ میں خریدا گیا ہے اس طرح تین مشینوں کی قیمت میں ایک مشین خریدی گئی۔ بڑے پیمانے کی اس کرپشن کے علاوہ جو خودکار خوراک پھینکنے وال مشین (Auto feeder) 90-95% دنیا بھر میں استعمال ہوتی ہے اور ڈیڑھ سے دو لاکھ میں دستیاب ہے اسکی جگہ جدید AI ٹیکنالوجی کے نام پر پچیس لاکھ فی مشین امپورٹ کی گئی ہے اور اس مد میں بھی سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا جسکی سرے سے کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اسی طرح از خود فارمنگ کرنے کے نام پر عالمی معیار کی خوراک جو پاکستان میں ایک بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی “تھائی یونین فیڈ مل” پہلے ہی سے تیار کر رہی ہے اور 330 سے 350 روپے فی کلوگرام پاکستان بھر میں دستیاب ہے اس چھوڑ کر 570 روپے فی کلوگرام کے حساب سے تقریبا اسی معیار کی فیڈ امپورٹ کی جا رہی ہے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ یہ حکومتی فیصلہ صریحا ًپیپرا رولز کی خلاف ورزی بھی ہے کیونکہ پیپرا رولز یہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں کمپنی موجود ہو اور عالمی معیار کی چیز بن رہی ہو تو پھر باہر سے منگوانے پر پابندی ہے مگر طاقتوروں کے لیے کسی بھی طرح کی پابندیاں اس ملک میں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف تو پاکستان میں ڈالر کی شدید کمی ہے اور دوسری طرف ہر معاملے میں کرپشن اور پیچیدگیوں کی مہارت رکھنے والے ’’کاریگروں‘‘ نے اس بہترین پراجیکٹ کا مستقبل سرکاری سطح کے دیگر سینکڑوں ناکام منصوبوں کی طرح خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس تمام صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ جس طرح مقامی کاشت کاروں سے گندم نہ خریدی گئی اور اب امپورٹ کی جا رہی ہے کیونکہ مقامی کاشتکاروں سے گندم خریدنے میں اعلی عہدے پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو کچھ نہیں ملتا اور گندم کی امپورٹ کرنے میں انہیں قانونی طریقے سے ڈالر باہر بھجوانے کی اچھی خاصی سہولیات میسر آ جاتی ہیں اور پاکستان سے دو نمبر طریقے سے کمایا گیا پیسہ قانونی طریقے سے باہر بھیجا جا سکتا ہے یہی وہ واحد وجہ ہے جو کہ مقامی صنعت و زراعت کو فروغ دینے کی بجائے امپورٹ کی طرف طاقتور کرپٹ اور با اختیار طبقے کو راغب کرتی ہے۔ اسی قسم کا معاملہ اس شرمپ پراجیکٹ میں بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ پاکستان میں عمومی طور پر اور پنجاب میں خصوصی طور پر جھینگا فارمنگ کے لیے بہت زیادہ پوٹینشل موجود ہے اور اگر بھارت پانچ ارب ڈالر سے زائد کا سالانہ جھینگا ایکسپورٹ کر سکتا ہے تو پاکستان اپنی سمندری ساحلی زمینوں اور پنجاب کے چار ملین ایکڑ زیر زمین کھارے پانی کو استعمال میں لا کر بھارت سے زیادہ ڈالر کما سکتا ہے مگر اس کے لیے وسعت قلبی کی ضرورت ہے اور اگر چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کی بجائے ملکی مفادات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ پروجیکٹ نہ صرف پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا بلکہ اس سے پاکستان کو بہت زیادہ آمدن بھی ہو سکتی ہے مگر آئے روز کے بدلتے ہوئے حکومتی فیصلوں نے نجی شعبے کے لوگوں کی اس شعبے میں دلچسپی کو اس وقت سے بہت کم کر دیا ہے جب سے 8 لاکھ روپے فی ایکڑ کی سبسڈی ختم کرنے کا اعلان ہوا ہے۔







