پنجاب اور سندھ کا درآمدی گندم خریدنے سے انکار، وفاقی حکومت مشکل میں پڑ گئی

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں گندم کے ذخائر برقرار رکھنے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کے چند روز بعد پنجاب اور سندھ نے درآمدی گندم خریدنے سے پیچھے ہٹنا شروع کردیا ہے، جس سے وفاق کو نئی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گندم کی قلت کا سامنا کرنے والے دونوں بڑے صوبوں نے درآمدی گندم کی خریداری سے متعلق اپنا مؤقف تبدیل کرلیا ہے۔ پنجاب اور سندھ نے مجوزہ سہ فریقی معاہدے کے حوالے سے بھی تاحال وفاقی حکومت کو اپنی رائے سے آگاہ نہیں کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب وفاقی حکومت کے سامنے دو راستے ہیں، یا تو درآمد کی جانے والی گندم کی مالی ذمہ داری وفاقی وسائل سے پوری کی جائے یا پھر درآمدی منصوبے کو ہی ختم کردیا جائے۔ تاہم منصوبہ ترک کرنے کی صورت میں مستقبل میں گندم کی قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
ایک وفاقی کابینہ رکن کے مطابق صوبوں کو ایک مرتبہ پھر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی گندم کی ضروریات واضح کریں اور تحریری طور پر آگاہ کریں کہ انہیں درآمدی گندم درکار ہے یا نہیں۔
وفاقی حکام کے مطابق موجودہ سرکاری ذخائر صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں، اسی وجہ سے ملک میں گندم کی ممکنہ کمی سے بچنے کے لیے درآمد کرنا ضروری قرار دیا جارہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں