ملتان (ناصر محمود شیخ ) تھانہ چہلیک ملتان کی پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ہوٹل سندباد ملتان میں چھاپہ مار کر غیر قانونی سرگرمیوں، منشیات کی برآمدگی اور عارضی رہائشیوں کے اندراج سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اے ایس آئی شفقت نبی دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ گشت اور ڈیجیٹل جرائم کی چیکنگ کے سلسلے میں کیمپ چوک پر موجود تھے کہ مخبر نے اطلاع دی کہ ہوٹل سندباد ملتان میں بغیر اندراجِ رجسٹر کچھ اشخاص کو کمرے میں ٹھہرایا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے ہوٹل کے استقبالیہ پر موجود ہوٹل مالکان/منیجر مہران مینیجر ہوٹل اور ہوٹل مالکان اظہر علی و حسنین اکبر پسران احمد نواز اقوام گریزی سکنائی 66A ابدالی روڈ ملتان کو پایا، جہاں موقع پر موجود استقبالیہ پر موجود مہتاب ولد محمد اسلم قوم جٹ سکنہ آتش روڈ گلی نمبر 5 کُہدہ ملتان اور صفدر محمود ولد محمد رمضان قوم مغل سکنہ گلی نمبر 1 دربار پیر مٹھا بائل براراں ملتان موجود تھے۔ پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ روم نمبر 224 میں 4 افراد اور ایک لڑکی کو رجسٹر میں اندراج کیے بغیر ٹھہرایا گیا تھا۔ پولیس نے روم نمبر 224 کو چیک کیا تو وہاں حسن علی ولد نذیر احمد قوم اورا، عابس اشفاق حسین قوم سید، محمد فرقان ولد محمد یعقوب، نعمان ستار ولد عبدالستار قوم ہوسن سکنائے کہکشاں سٹریٹ گلگشت ملتان اور نازیا شاہد دختر امام بخش قوم موچی سکنہ چک نمبر 10R/87 خانیوال حال چوگی نمبر 9 ملتان موجود پائے گئے۔ تلاشی کے دوران چاروں افراد کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی، جبکہ عابس کی دائیں جیب سے 80 گرام چرس اور کمرے سے مرّی امپیریل برانڈ کی 2 عدد شراب کی بوتلیں (ایک بھری ہوئی اور ایک کھلی) برآمد ہوئیں۔ پوچھ گچھ کے دوران نازیا شاہد اور دیگر افراد نے انکشاف کیا کہ امانت ولد محمد اسلم راجپوت سکنہ بستی خداداد ملتان اور محمد کاشف ولد محمد یسین قریشی سکنہ گلنار کالونی نے لڑکی اور شراب مہیا کرنے کا انتظام کیا تھا اور ہوٹل انتظامیہ کی ملی بھگت سے رقم کے عوض نائٹ قیام اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ پولیس نے برآمد شدہ منشیات و دیگر شواہد قبضے میں لے کر تھانہ چہلیک میں پنجاب عارضی رہائش آرڈیننس، انسدادِ منشیات اور تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔







