لاہور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو بھیجی گئی ایک مفصل رپورٹ میں پنجاب کے مختلف شہروں میں سیوریج سسٹم اور کھلے گٹروں میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعات کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بہت سے انکشافات کیے گئے ہیں اور گٹروں کے ڈھکنوں کی چوری کی روک تھام کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ بھر کے بلدیاتی اداروں، میونسپل کمیٹیوں، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، واسا اور ضلع کونسلز میں سیوریج سسٹم کے حوالے سے اربوں روپے کی کرپشن ہر سال تسلسل سے کی جا رہی ہے اور گٹروں کے ڈھکنوں کی چوری میں بھی ان محکموں اور اداروں کے سیورمین ملوث ہیں جبکہ نشئی حضرات بھی یہ ڈھکن چرا کر لے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ پنجاب بھر میں پولیس کو ہدایات دی جائیں کہ جس بھی کباڑیے کے پاس گٹروں کے ڈھکنوں کا اینگل آئرن جو کہ مخصوص قسم کا ہوتا ہے اور گولائی میں ہوتا ہے، ملے اسے کم سے کم 10 سال قید کی سزا دلوانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صوبہ بھر کے پرائیویٹ ڈ ویلپرز گٹروں کے ان چوری شدہ ڈھکنوں اور گول کڑوں کے سب سے بڑے خریدار ہیں جو ان اداروں کے نچلے درجے کے ملازمین اور سیورمین چوری کرکے انہیں فروخت کرتے ہیں اور 1800 روپے سے 2 ہزار روپے تک کا ڈھکن اور کڑا زیادہ سے زیادہ 900 روپے میں انہیں فروخت کر دیتے ہیں جبکہ منشیات کے عادی افراد بھی انہیں کباڑیوں کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو دو تجاویز پیش کی گئی تھیں جن میں سے ایک کی منظوری دے دی گئی ہے۔ تجاویز یہ تھی کہ مین سیور لائن میں جتنے بھی نئے گٹر تعمیر ہوں ان میں چار سے پانچ فٹ نیچے ایک اور سلیب ڈال کر اس پر ڈھکن لگائے جائیں تاکہ اگر کوئی خدا نخواستہ اس میں گر بھی جائے تو باآسانی اسے باہر نکالا جا سکے اور دوسری تجویز یہ تھی کہ گاڑیوں کی سیٹ بیلٹ کی طرز پر ایک مضبوط جال بنا کر ڈھکنوں کے اندرونی طرف نٹ بولٹ یا راول پلگ سے اس جال کو فٹ کر دیا جائے تاکہ کوئی بھی شخص اور بچہ اس میں گر نہ سکے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر اس تجویز پر عمل درآمد شروع کروا دیا گیا ہے جبکہ مین سیوریج میں پانچ فٹ نیچے والے کنکریٹ کے فریم کی تجویز کو رد کر دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کو زیر زمین سیوریج میں پانی کے بہاؤ کے لیے صوبہ بھر کے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں میں پمپنگ سٹیشنز پر نصب کیے گئے الیکٹرک پمپس میں جو اربوں روپے کے گھپلے گزشتہ 30 سال سے جاری ہیں ان کے بارے میں بھی خوفناک انکشافات کیے گئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ کس طرح ضرورت سے کہیں زیادہ الیکٹرک موٹرز نصب کی گئی ہیں جن کا یہ تمام ادارے ہر مہینے کروڑوں روپے کا ڈیزل خریدتے ہیں مگر یہ ساری کارروائیاں کاغذوں میں ہوتی ہیں اور 70 سے 80 فیصد الیکٹرک موٹریں بند رہتی ہیں مگر ان کے ڈیزل کی مد میں ادائیگیاں جاری رہتی ہیں۔







