پشاور: تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا پیپلز پارٹی سے کسی قسم کے مذاکرات کا ارادہ نہیں۔
پشاور میں پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان، ارکان صوبائی اسمبلی اور ارکان قومی اسمبلی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ان کی صحت پارٹی کے لیے ریڈ لائن ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کے حربے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں مل کر بھی بانی پی ٹی آئی کی سیاسی جماعت کو ختم نہیں کرسکیں اور عوام اب بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق کئی ماہ گزرنے کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، جبکہ ان کی صحت کے معاملے پر بھی کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا گیا۔
شیخ وقاص اکرم نے اسحاق ڈار کے نواسے کے خلاف درج ایف آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس معاملے کا کیا بنا؟ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی فارم 47 حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کوئی بھی منفی خبر پوری پارٹی کے لیے تشویش کا باعث ہوگی اور مریم نواز و وزیراعظم شہباز شریف کو اس حوالے سے جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا نوٹس لیا جائے اور انہیں فوری طور پر ملاقات کی اجازت دی جائے۔ شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ عدلیہ بھی جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والے معاملات پر اپنے اختیارات استعمال نہیں کر رہی، جبکہ ان کے مقدمات کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جانا چاہیے۔
پی ٹی آئی ترجمان نے پنجاب میں خواتین کی ہلاکت کے واقعے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کی موجودگی میں دو خواتین تھانے میں جاں بحق ہوئیں، کیا سی سی ڈی صرف غریب افراد کے لیے بنائی گئی ہے؟ انہوں نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔
شیخ وقاص اکرم نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے انتخابات کے دوران ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کو حقیقت دکھا دی۔
انہوں نے ججز کی تقرری میں سیاسی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس عمل کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں کے خلاف پی ٹی آئی کا مؤقف واضح ہے اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جارہے۔
شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ماضی میں متعدد مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں اور 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر بھی جے یو آئی کے ساتھ تعاون کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جے یو آئی کے ساتھ مختلف معاملات پر ضرورت کے مطابق بات چیت جاری رہتی ہے۔







