بہاولپور: منصوبوں میں 15 کڑور کی بے ضابطگیاں، سابق ایکسین پر پیڈا انکوائری کی سفارش

بہاولپور(مہر اجمل سہو) عوامی فلاح و بہبود کے اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں سابق ایکسین بلڈنگز ڈویژن نمبر 1 بہاولپور نثار احمد کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت باقاعدہ محکمانہ انکوائری کی سفارش کر دی گئی ہے۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگز سرکل بہاولپور کی جانب سے چیف انجینئر ساؤتھ زون پنجاب کو ارسال کردہ انکوائری رپورٹ میں شکایت میں عائد متعدد الزامات کو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد درست قرار دیتے ہوئے مزید محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔سابق ایکسین نثار احمد کے دور میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں کام مکمل ہونے، متعلقہ ایس ڈی اوز کی تصدیق اور حتمی بلوں کی منظوری سے قبل ہی تقریباً 15 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض منصوبوں میں ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کے برخلاف رقوم کی ادائیگیاں کی گئیںجبکہ بعض معاملات میں مطلوبہ دستاویزی کارروائی بھی مکمل نہیں کی گئی۔انکوائری رپورٹ کے مطابق نثار احمد نے 15 اکتوبر 2025 سے 26 فروری 2026 تک بطور ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگز ڈویژن نمبر 1 بہاولپور مختلف ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویمن پروٹیکشن سنٹر بہاولپور، بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، خستہ حال BHUs اور RHCs کی تعمیر نو اور محکمہ سوشل ویلفیئر کی عمارتوں کی تزئین و آرائش جیسے منصوبوں میں فارم نمبر 2 کے تحت بعض ادائیگیاں واؤچرز کے بغیر بطور ایڈوانس کی گئیں، جسے رپورٹ میں مس کنڈکٹ، نااہلی اور کرپشن کے زمرے میں قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کالج آف نرسنگ، فشریز انفراسٹرکچر، چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، جوڈیشل آفیسرز کی رہائش گاہیں، آرتھو کمپلیکس بہاول وکٹوریہ ہسپتال، پیرا میڈیکل سکول، پنجاب ہائی وے پٹرول پولیس لائن، جنوبی پنجاب کے آر ایچ سیز، سیشن کورٹ بہاولپور اور لال سوہانرا نیشنل پارک کے ایکو ٹورازم منصوبے سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں میں بھی کام کی تکمیل اور متعلقہ افسران کی تصدیق سے قبل پرفارمنس سیکیورٹیز ریلیز کی گئیں۔قائداعظم میڈیکل کالج، جوڈیشل کمپلیکس، فورٹ ٹورسٹ ریزورٹ، ویمن پروٹیکشن سنٹر، سرکٹ ہاؤس، پولیس پوسٹ نور پور، بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے ریڈیالوجی منصوبے، زرعی انفارمیشن سسٹم، لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کے نئے کورٹس بلاک اور پنجاب پولیس انٹیلی جنس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سمیت متعدد منصوبوں میں بھی مبینہ طور پر کام مکمل ہونے سے قبل ٹھیکیداروں کی بینک گارنٹیاں ریلیز کی گئیں۔انکوائری رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سرکاری مفادات کا تحفظ ایگزیکٹو انجینئر کی بنیادی ذمہ داری تھی، تاہم مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کے برعکس اقدامات کیے گئے، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔عوامی فلاحی ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی پر سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس پنجاب کی جانب سے معاملے کی رپورٹ طلب کی گئی تھی۔ بعد ازاں سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگز سرکل بہاولپور نے متعلقہ سرکاری ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کی۔رپورٹ میں سابق ایکسین نثار احمد کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت باقاعدہ محکمانہ انکوائری عمل میں لانے کی سفارش کرتے ہوئے معاملے میں ذمہ داری کے تعین اور مزید کارروائی کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں