پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صحافی حامد میر نے گزشتہ روز میرا انٹرویو نشر کرنے کے معاملے پر اسٹینڈ لیا، اسی طرح عمران خان کے معاملے پر عدلیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سلمان اکرم راجا اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کرتے۔ بانی پی ٹی آئی نے بھی کبھی اپنی صحت کو سیاسی معاملہ نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف کی پلیٹ لیٹس سے متعلق مسئلہ سامنے آیا تھا تب بھی ہم نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا، کیونکہ آج ہمارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے، کل دوسروں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صحافی بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے خبریں سامنے لا رہے ہیں اور ہمیں ان کی صحت کے بارے میں شدید تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز حامد میر نے پروگرام نشر کرنے کے معاملے پر اسٹینڈ لیا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ اگر ایک شخص اپنے مؤقف کے لیے اسٹینڈ لے سکتا ہے تو عدلیہ کو بھی عمران خان کے معاملے پر اسٹینڈ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو عوام اور نوجوان باہر نکلیں گے، نوجوانوں کی آنکھوں میں انہیں تبدیلی اور انقلاب کی چمک نظر آرہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرتبہ لوگوں کو کوئی نہیں روک سکے گا، حتیٰ کہ وہ خود بھی انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔
اس موقع پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ان کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کو فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق رجسٹرار نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ ہفتے تمام متعلقہ مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور اس حوالے سے کاز لسٹ بھی جاری کردی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپنے معالجین سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے ملاقات نہیں ہوئی، جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی گفتگو کرنا بانی پی ٹی آئی کا حق ہے، تاہم صحت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا مؤقف ہے کہ وہ سیاسی گفتگو نہیں کریں گے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ معاملہ آئندہ ہفتے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور انہیں امید ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے عدالت سے ریلیف ملے گا۔







