شجاع آباد(خبر نگار)15 سالہ گھریلو ملازمہ اریشہ پر جنسی تشدد ، نشتر ہسپتال سے گھر منتقل کیے جانے پر والدین پریشان، والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ بیٹی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ سفاک شخص نے زیادتی کے بعد چھریوں کے وار کیے اور واش روم میں رکھا کلینر تیزاب پلا دیا۔بیٹی کو فوری ہسپتال میں داخلے اور علاج کی ضرورت ہے۔انہوںنے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس اور سرکاری سطح پر علاج کی اپیل کردی۔تفصیل کے مطابق شجاع آباد کی بلال کالونی میں انسانیت سوز اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا تھا جہاں 15 سالہ گھریلو ملازمہ اریشہ کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد سفاکانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ملزم نے کمسن لڑکی پر چھری کے پے در پے وار کیے اور اسے واش روم میں رکھا تیزاب بھی پلا دیا،واقعے کے فوری بعد اہل خانہ متاثرہ لڑکی کو تشویشناک حالت میں نشتر ہسپتال ملتان لے کر پہنچے۔ تاہم ورثا کے مطابق ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد لڑکی کو واپس گھر لے جانے کا کہہ کر روانہ کر دیا گیا۔متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اریشہ کی حالت اس وقت انتہائی نازک ہے اور زہر کے اثرات و شدید زخموں کی وجہ سے اس کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ورثا کے مطابق ان کی بیٹی کو اس وقت فوری اور مکمل طبی علاج کی ضرورت ہےجو صرف ہسپتال میں ہی ممکن ہے۔ مالی استطاعت نہ ہونے کے باعث غریب والدین اپنی بیٹی کا کسی نجی ہسپتال میں علاج کرانے سے قاصر ہیں۔متاثرہ یتیم اریشہ کے بے بس والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اریشہ کی قیمتی جان بچانے کے لیے اسے فوری طور پر ہسپتال میں داخل کر کے سرکاری سطح پر تمام تر طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ معصوم بچی کو بروقت اور مکمل علاج میسر آ سکے۔







