ملتان (وقائع نگار)تین ماہ سے پیسہ نہیں، حکومت پھر بھی کام مانگ رہی ہےPEF اور PSRP کے تحت سکول چلانے والے پارٹنرز مالی بحران کا شکار، اساتذہ کی تنخواہیں، کرائے اور بجلی کے بل کیسے ادا ہوں؟ حکومت سے زیرِ التو ادائیگیاں فوری جاری کرنے کا مطالبہ پنجاب میں تعلیم کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اسکول چلانے والے نجی پارٹنرز نے گزشتہ تین ماہ سے ادائیگیاں نہ ملنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے فوری طور پر واجب الادا رقوم جاری کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ پارٹنرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اسکولوں سے باقاعدگی سے کام لیا جا رہا ہے، مانیٹرنگ ہو رہی ہے، بچوں کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیوں کا ریکارڈ طلب کیا جا رہا ہے، لیکن جب ادائیگی کی باری آتی ہے تو تین ماہ سے خاموشی ہے۔پارٹنرز کا کہنا ہے کہ اسکول بغیر پیسوں کے نہیں چلتے۔اساتذہ کو ہر ماہ تنخواہ چاہیے، اسکول کی عمارت کا کرایہ ہر ماہ ادا کرنا ہوتا ہے، بجلی کے بل ہر ماہ آتے ہیں، بچوں کے لیے اسٹیشنری اور تعلیمی سامان درکار ہوتا ہے، صفائی، پانی، مرمت اور دیگر روزمرہ کے اخراجات بھی اپنی جگہ موجود ہیں، مگر حکومت کی جانب سے تین ماہ کی ادائیگیاں زیرِ التوا ہونے کے باعث اسکول چلانے والے پارٹنرز شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔پارٹنرز کا سوال ہے کہ اگر حکومت کو اسکولوں سے متعلق ہر چیز کا ریکارڈ چاہیے، اگر بچوں کی حاضری اور اساتذہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اگر اسکولوں سے مسلسل تعلیمی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں تو پھر ان خدمات کے عوض طے شدہ ادائیگی تین ماہ سے کیوں روکی گئی ہے۔اساتذہ تنخواہ مانگتے ہیں، سکول مالک سے سوال کرتے ہیں پارٹنرز کے مطابق سب سے زیادہ پریشانی اساتذہ کی تنخواہوں کے حوالے سے پیدا ہو رہی ہے۔ایک طرف حکومت معیارِ تعلیم بہتر بنانے کی بات کرتی ہے، دوسری طرف وہی نظام چلانے والے ادارے مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔کرایہ، بجلی اور دیگر اخراجات کون ادا کرے؟سکول پارٹنرز کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسکول صرف کلاس روم اور بلیک بورڈ کا نام نہیں۔سکول کے لیے عمارت چاہیے۔عمارت کا کرایہ چاہیے۔بجلی چاہیے۔پانی چاہیے۔فرنیچر چاہیے۔اسٹیشنری چاہیے۔صفائی کا انتظام چاہیے۔اساتذہ اور دیگر عملے کی تنخواہیں چاہیے۔یہ تمام اخراجات ہر ماہ ہوتے ہیں اور انہیں تین ماہ کے لیے مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ کام وقت پر چاہیے تو پیسہ بھی وقت پر دینا ہوگا۔اسی لیے حکومت کو PEF اور PSRP کے تحت چلنے والے اسکولوں کی مالی مشکلات کو فوری طور پر حل کرنا چاہیے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔







