ملتان (جنرل رپورٹر)ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں آج منگل 11 اگست 2026 سے نیشنل چیمپئنز کپ کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے جس میں پاکستان گرینز، گولڈ، وائٹس اور بلیوز کی چار ٹیمیں حصہ لیں گی۔ ان ٹیموں کی قیادت بالترتیب شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب کریں گے۔ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف کرکٹ کے فروغ بلکہ اگلے سال ہونے والے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں کا بھی سنگِ میل ثابت ہوگا جس میں بیک اپ پلیئرز کو موقع دینے اور ٹیم ڈیپتھ بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انعامی رقم کے اعتبار سے جیتنے والی ٹیم کو 50 لاکھ جبکہ رنرز اپ کو 25 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔فضل محمود اور عمران خان انکلوژرز میں شائقین کا داخلہ مکمل طور پر مفت رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر چاروں کپتانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شاہین شاہ آفریدی نے کہا یہ ٹورنامنٹ صرف ایک مقابلوں کا سلسلہ نہیںبلکہ ہمارے ورلڈ کپ پلان کا مرکزی حصہ ہے۔ ہم نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کے ہر شعبے میں متبادل کھلاڑیوں کو آزمانے کا پروگرام بنایا ہے تاکہ اگر کسی بڑے ایونٹ میں کوئی کلیدی کھلاڑی دستیاب نہ ہو تو ہمیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ میری کوشش ہوگی کہ ٹیم میں ہر ایک کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا مکمل موقع دوں اور ساتھ ہی جیت کی عادت کو بھی برقرار رکھوں۔شاداب خان نے اپنی ٹیم گولڈ کے بارے میں کہا میری ٹیم میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا بہترین امتزاج ہےاور میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ آج کی جدید ون ڈے کرکٹ میں سپن اور تیز رفتاری دونوں کا توازن نہایت اہم ہے۔ ہم ہر میچ کو شدت سے لڑیں گےکیونکہ اس طرح کے ٹورنامنٹ ہمیں دباؤ میں کھیلنا سکھاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ سلسلہ ورلڈ کپ کے لیے ایک منی آئی سی سی ایونٹ کی حیثیت رکھتا ہےاور میں اپنی قیادت میں پوری ٹیم کو پراعتماد اور یک جان دیکھنا چاہتا ہوں۔ صاحبزادہ فرحان نے نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کو سراہتے ہوئے کہاان نوجوان اور ٹیلنٹڈ لڑکوں کے ساتھ ون ڈے کرکٹ کھیلنا میرے لیے انتہائی پرکشش چیلنج ہے۔یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں وہ بڑے سٹیج پر اپنی شناخت بنا سکتے ہیں۔ میری کوشش ہے کہ انہیں کھل کر کھیلنے کا ماحول دوںکیونکہ جب آپ نوجوانوں کو آزادی دیتے ہیں تو وہ غیرمتوقع کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ ساتھ ہی میں خود بھی اپنی بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بہتری لا کر ٹیم کو مستحکم کروں گا اور امید ہے کہ یہ سفر ہمیں اجتماعی طور پر بہتر کرے گا۔صائم ایوب نے کہامیرے نزدیک اس ٹورنامنٹ میں ہر کھلاڑی یکساں اہم ہے۔کوئی بھی چھوٹا یا بڑا نہیں کیونکہ ون ڈے کا فارمیٹ ہر کسی کے لیے کردار متعین کرتا ہے۔ ہم میدان میں متحد رہ کر اپنی حکمت عملی کو مکمل کریں گےاور میں چاہتا ہوں کہ ہر فرد اپنی بہترین کارکردگی دکھائے۔ جیت کا ہدف تو ضرور ہےلیکن اس سے بھی بڑھ کر میں ٹیم میں مثبت توانائی اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا چاہتا ہوں تاکہ اگر ورلڈ کپ کے دوران کوئی مشکل مرحلہ آئے تو ہم ایک مضبوط اکائی کے طور پر اس کا سامنا کر سکیں۔ ان چاروں کپتانوں نے ایک دوسرے کی ٹیموں کے لیے عزت کا اظہار بھی کیا اور اس بات پر متفق تھے کہ یہ ایونٹ پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔







