پٹواریوں کے پرائیویٹ منشی، نجی دفاتر اور سرکاری لاگ اِن، بہاوپور کا ریونیو نظام غیر محفوط

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) جنوبی پنجاب کے اہم ضلع بہاولپور میں محکمہ مال کے ریونیو نظام کے اندر پرائیویٹ منشیوں کی مبینہ بڑھتی ہوئی مداخلت نے انتظامی نگرانی، سرکاری ریکارڈ کے تحفظ اور سائلین کو براہِ راست سرکاری خدمات کی فراہمی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئےہیں۔ تحصیل سٹی اور تحصیل صدر کے مختلف پٹوار حلقوں میں مبینہ طور پر پٹواریوں نے غیر سرکاری افراد کو اپنے ساتھ منسلک کر رکھا ہےجبکہ بعض مقامات پر نجی عمارتوں یا غیر سرکاری جگہوں کو مبینہ طور پر پٹوار دفاتر کے طور پر استعمال کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔صورتحال کا سب سے حساس پہلو یہ بتایا جا رہا ہے کہ بعض پرائیویٹ منشیوں کو مبینہ طور پر پٹواریوں کے سرکاری کمپیوٹرائزڈ لاگ اِن، لیپ ٹاپ اور ریونیو ریکارڈ سے متعلق کام تک رسائی حاصل ہے۔ اگر کسی غیر مجاز شخص کو سرکاری صارف نام، پاس ورڈ یا سرکاری نظام کے ذریعے ریکارڈ تک رسائی حاصل ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ ریکارڈ سکیورٹی، اکاؤنٹ ایکسیس کنٹرول اور ڈیٹا گورننس کے حوالے سے بھی انتہائی اہم معاملہ بن سکتا ہے۔ پرائیویٹ شخص کو ریونیو سیٹ اپ یا ریکارڈ تک رسائی نہیںقابلِ ذکر امر یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ کے ایک مقدمے کے حوالے سے 2021 میں رپورٹ ہوا تھا کہ عدالت نے قرار دیا کہ پرائیویٹ طور پر رکھے گئے افراد کو ریونیو سیٹ اپ میں کام کرنے یا سرکاری ریکارڈ تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسی عدالتی کارروائی میں بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر کو پٹواریوں کی جانب سے نجی عمارتوں میں قائم دفاتر کو سرکاری مقامات پر منتقل کرنے اور متعلقہ پٹواریوں کے خلاف کارروائی یقینی بنانے کی ہدایات بھی رپورٹ ہوئیں۔اس عدالتی اصول کے تناظر میں بہاولپور کی موجودہ صورتحال کی آزادانہ انتظامی جانچ ناگزیر دکھائی دیتی ہے کہ آیا کسی غیر سرکاری شخص کو سرکاری ریکارڈ، کمپیوٹرائزڈ ریونیو ڈیٹا، پٹواری کے لاگ اِن یا سرکاری دستاویزات تک عملی رسائی حاصل ہے یا نہیں۔پٹواری دفتر میں سرکاری اہلکار کون؟ نجی منشی کون؟ نگرانی کا نظام کہاں ہے؟ذرائع کے مطابق بعض پٹوار خانوں اور پٹواریوں کی جانب سے قائم کردہ مبینہ نجی دفاتر میں سائلین کے معاملات دیکھنے کے لیے پرائیویٹ منشی موجود رہتے ہیں۔ سائلین کو فرد، انتقال، رپورٹ، موقع ملاحظہ، حد بندی اور دیگر ریونیو معاملات میں معاونت کے نام پر مبینہ طور پر مختلف رقوم طلب کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب بہاولپور میں تحصیل سٹی اور تحصیل صدر کے تمام پٹوار حلقوں کا خصوصی آڈٹ کرائیں اور معلوم کیا جائے کہ کتنے پٹواریوں نے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے غیر سرکاری افراد کو رکھا ہوا ہے، کتنے نجی مقامات پر پٹوار دفاتر قائم ہیں اور کن افراد کو سرکاری ریکارڈ یا کمپیوٹرائزڈ نظام تک رسائی حاصل ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں