دوکوٹہ(نمائندہ خصوصی) کبوتر چوری کا شبہ، آٹھویں جماعت کے طالب علم رسیوں سے باندھ کر مبینہ تشدد، برہنہ کرکے ویڈیو بنانے کا بھی الزام، متاثرہ بچے کے والد کی اعلیٰ حکام سے کارروائی کی اپیل۔تھانہ ٹبہ سلطان پور کی حدود چک نمبر 187 ڈبلیو بی میں مبینہ طور پر کبوتر چوری کے شبہ میں آٹھویں جماعت کے طالب علم محمد فرحان کو چند افراد نے پکڑ کر رسیوں سے باندھ دیا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں رسیوں میں جکڑے طالب علم سے بعض افراد کو تفتیش کے انداز میں سوال و جواب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔متاثرہ طالب علم کے والد نصر اللہ خان سکنہ چک نمبر 187 ڈبلیو بی کے مطابق محمد اصغر سمیت پانچ نامعلوم افراد نے کبوتر چوری کے شبہ میں ان کے بیٹے کو پکڑا، رسیوں سے باندھا اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا نصر اللہ خان نے مزید الزام عائد کیا کہ ملزمان نے بچے کو برہنہ کرکے اس کی ویڈیو بھی بنائی جس کے ذریعے اسے مبینہ طور پر خوف زدہ اور ہراساں کیا گیا۔والد کے مطابق ملزمان نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے خود ہی عدالت لگا لی اور بچے سے کبوتر چوری کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے رہے ان کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے بعد ان کا بیٹا شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔نصر اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد ملزمان کی جانب سے ان کے بیٹے کو مزید نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جبکہ پولیس کو اطلاع دینے کی صورت میں بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے اعلیٰ آر پی او ملتان عثمان اکرم گوندل اور ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ محمد اصغر اور دیگر نامعلوم ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے اور میرے اہل خانہ سمیت میرے بچے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔دوسری جانب ایس ایچ او تھانہ ٹبہ سلطان پور رانا ثاقب نذیر نے کہا ہے کہ درخواست موصول ہوتے ہی معاملے کی قانون کے مطابق جانچ پڑتال کی جائے گی اور حقائق سامنے آنے پر ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔







