کمپیوٹنگ پروگرامز پر سخت کریک ڈاؤن، داخلوں اور ایکریڈیٹیشن کی نئی پالیسی نافذ

ملتان (سٹاف رپورٹر) نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیٹیشن کونسل (NCEAC) نے کمپیوٹنگ پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن، طلبہ کے داخلوں، زیرو وزٹ، چینج آف اسکوپ، طلبہ کی منتقلی اور پرانے گریجویٹس کی رجسٹریشن کے حوالے سے اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات، ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوشنز اور دیگر ہائر ایجوکیشن اداروں کو سختی سے ان فیصلوں پر عملدرآمد کی ہدایت کردی ہے۔ این سی ای اے سی کی جانب سے جاری سرکلر نمبر NCEAC/GC-47/Circular/2026-7 کے مطابق یہ فیصلے جنرل کونسل کے 47ویں اجلاس میں 18 جون 2026 کو نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE)، ایچ ای سی اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیے گئے، جن پر فوری طور پر عملدرآمد ہوگا، تاہم جہاں کسی فیصلے کے لیے الگ تاریخ مقرر کی گئی ہے وہاں وہی تاریخ لاگو ہوگی۔ این سی ای اے سی کے مطابق بی ایس کمپیوٹر سائنس 2025 کریکولم کے نفاذ کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسے ادارے جو بی ایس کمپیوٹر سائنس کے علاوہ دیگر کمپیوٹنگ ناموں کے تحت این سی ای اے سی سے ایکریڈیٹڈ یا منظور شدہ پروگرامز پہلے سے چلا رہے ہیں، وہ سابقہ ناموں کو ختم کرکے اپنے کمپیوٹنگ پروگرامز کے لیے بی ایس کمپیوٹر سائنس کی نئی نامزدگی اختیار کرسکتے ہیں اور 2026 سے نئے داخلے بی ایس سی ایس کے نام سے دے سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے چینج آف اسکوپ وزٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ سہولت اس صورت میں حاصل ہوگی جب ادارے کی جانب سے پہلے پیش کیے جانے والے تمام متعلقہ پروگرامز این سی ای اے سی سے منظور شدہ ہوں اور متعلقہ پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن یا منظوری بھی این سی ای اے سی سے حاصل شدہ ہو۔ تاہم ادارے پر لازم ہوگا کہ نئی نامزدگی اختیار کرنے سے قبل این سی ای اے سی کو باقاعدہ طور پر اپنے فیصلے سے آگاہ کرے تاکہ مستقبل میں ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ این سی ای اے سی نے طلبہ کے داخلوں کی حد (Student Intake Cap) کے حوالے سے بھی سخت پالیسی نافذ کردی ہے۔ سرکلر کے مطابق تمام DAIs/HEIs کو کسی بھی کمپیوٹنگ پروگرام میں داخل ہونے والے تمام طلبہ کا ڈیٹا این سی ای اے سی کے سسٹم پر اپ لوڈ کرنے اور ایکریڈیٹیشن کے لیے درخواست جمع کرانے کی اجازت ہوگی، تاہم Fall 2026 سے کسی بھی ادارے کو این سی ای اے سی کی جانب سے مقرر کردہ منظور شدہ انٹیک کیپ سے زیادہ طلبہ کا ڈیٹا سسٹم پر اپ لوڈ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مزید برآں اگر کوئی ادارہ کسی پروگرام کے لیے این سی ای اے سی کی جانب سے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ سالانہ داخلہ حد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سال داخل کیے جانے والے پورے بیچ کو ایکریڈیٹیشن نہیں دی جائے گی۔ اس فیصلے سے کمپیوٹنگ پروگرامز میں مقررہ گنجائش سے زائد داخلے لینے والے اداروں کے لیے واضح طور پر سخت ضابطہ متعارف کرایا گیا ہے۔ این سی ای اے سی نے زیرو وزٹ (Zero Visit) کے حوالے سے بھی اہم شرائط عائد کردی ہیں۔ فیصلے کے مطابق کامیاب زیرو وزٹ منظوری کے بغیر کسی پروگرام کو مستقبل میں ایکریڈیٹیشن حاصل کرنے کا اہل نہیں سمجھا جائے گا۔ این سی ای اے سی نے کسی نئے پروگرام کے آغاز پر ابتدائی طور پر زیادہ سے زیادہ دو سیکشنز میں داخلے کی اجازت دی ہے، جبکہ ہر سیکشن میں زیادہ سے زیادہ 50 طلبہ ہوسکیں گے، یعنی ابتدا میں مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ 100 طلبہ کے داخلے کی گنجائش ہوگی۔ نئے پروگرامز کے حوالے سے اداروں کے لیے ایک اور اہم شرط عائد کرتے ہوئے این سی اے ای سی نے قرار دیا ہے کہ جس DAIs/HEI کے کمپیوٹنگ ڈگری پروگرامز میں سے 50 فیصد سے زیادہ پروگرام Y-2، Y-1 یا Z کیٹیگری میں ایکریڈیٹڈ ہوں، اسے نیا پروگرام شامل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایسے ادارے میں نئے پروگرام کے لیے زیرو وزٹ اسی وقت پلان کیا جاسکے گا جب ادارے کے کم از کم 50 فیصد موجودہ کمپیوٹنگ پروگرامز X کیٹیگری یا اس سے بہتر کیٹیگری میں ایکریڈیٹ ہوچکے ہوں۔ این سی ای اے سی نے واضح کیا ہے کہ یہ پالیسی Fall 2026 یا اس کے بعد شروع ہونے والے تمام پروگرامز پر لاگو ہوگی۔ اسی طرح Change-of-Scope Visit کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر ادارہ چینج آف اسکوپ وزٹ مکمل کرنے کے بعد منظوری حاصل کرلیتا ہے تو این سی ای اے سی کی جانب سے اسے مزید زیادہ سے زیادہ دو سیکشنز میں طلبہ داخل کرنے کی اجازت دی جاسکے گی، جبکہ ہر اضافی سیکشن میں زیادہ سے زیادہ 50 طلبہ ہوں گے۔ این سی ای اے سی نے طلبہ کی منتقلی اور لیٹرل ایڈمیشن کے ذریعے برجنگ طلبہ کے حوالے سے بھی واضح پالیسی جاری کردی ہے۔ سرکلر کے مطابق ٹرانسفر طلبہ اور لیٹرل ایڈمیشن کے ذریعے آنے والے برجنگ طلبہ کو صرف اسی صورت داخلہ دیا جاسکے گا جب متعلقہ بیچ میں این سی ای اے سی کی جانب سے باقاعدہ طور پر منظور شدہ طلبہ کیپ کے مطابق نشستیں دستیاب ہوں۔ کسی بھی صورت میں این سی ای اے سی کی مقرر کردہ کیپ کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکے گی، یعنی محض ٹرانسفر یا لیٹرل ایڈمیشن کی بنیاد پر منظور شدہ طلبہ کی حد سے تجاوز نہیں کیا جاسکے گا۔ این سی ای اے سی نے Fall 2007 سے قبل کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخل ہونے والے گریجویٹس کے حوالے سے بھی اہم وضاحت جاری کردی ہے۔ فیصلے کے مطابق وہ گریجویٹس جو Fall 2007 یا اس سے قبل کسی کمپیوٹنگ پروگرام میں داخل ہوئے تھے اور جن کا گریجویشن سال 2011 یا اس سے قبل ہے، ان سے متعلقہ کمپیوٹنگ پروگرام کی ایکریڈیٹیشن کا ثبوت طلب نہیں کیا جائے گا کیونکہ انہوں نے این سی ای اے سی کے 2007 میں قیام سے قبل تعلیم حاصل کی تھی۔ تاہم ایسے گریجویٹس متعلقہ رجسٹریشن کی شرائط پوری کرنے کی صورت میں Associate یا Professional Registration کے لیےدرخواست دینے کے اہل ہوں گے۔این سی ای اے سی کی جانب سے جاری سرکلر میں تمام متعلقہ جامعات، ڈگری ایوارڈنگ اداروں اور ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز کو ان فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ طلبہ کے داخلوں کی مقررہ حد، زیرو وزٹ، چینج آف اسکوپ اور پروگرام ایکریڈیٹیشن کے قواعد کی خلاف ورزی مستقبل میں اداروں کے پروگرامز اور متعلقہ بیچز کی ایکریڈیٹیشن پر براہ راست اثرانداز ہوسکتی ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق این سی ای اے سی کے ان نئے فیصلوں سے کمپیوٹنگ پروگرامز میں غیرضروری اور گنجائش سے زائد داخلوں کی حوصلہ شکنی، پروگرامز کے معیار میں بہتری اور ایکریڈیٹیشن کے عمل میں نظم و ضبط پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ اداروں کو نئے پروگرام شروع کرنے سے قبل اپنے موجودہ پروگرامز کے معیار اور ایکریڈیٹیشن کی صورتحال بہتر بنانا ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں