ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے جائز حقوق کے حصول اور تنازعات کے حل کے لیے جنگ یا فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کسی طاقت کے دباؤ کے سامنے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اپنے قومی حقوق کا دفاع جاری رکھے گا، تاہم تہران بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ کو مسائل کے حل کا ترجیحی ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کا خواہاں ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق مذاکرات اسی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں جب ان میں دھمکی، دباؤ یا یک طرفہ شرائط شامل نہ ہوں۔ ایران اپنی قومی خودمختاری اور حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔







