ملتان(شیخ نعیم سے) ملتان شہر اور اس کے مختلف علاقوں میں سٹریٹ کرائم، چوری، ڈکیتی اور شہریوں کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام میں شدید خوف و ہراس اور بے چینی کی فضائی قائم ہو چکی ہے۔ پولیس کی جانب سے اگرچہ ناکہ بندیوں، موبائل گشت، رپڈر ڈھکلر اور مختلف سطحوں پر کھلی کچہریوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہےلیکن اس کے باوجود شہری خود کو غیر محفوظ اور بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ حکومتِ پنجاب بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کی واضح ہدایات کی روشنی میں سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر نے جرائم کے خاتمے اور متاثرہ شہریوں کو فوری ریلیف کی فراہمی کے لئے عملی اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ سی پی او ملتان نہ صرف اپنے دفتر میں بلکہ دیگر مقامات پر بھی متعدد کھلی کچہریوں کا انعقاد کر رہے ہیں، جہاں شہریوں کے مسائل براہِ راست سنے جا رہے ہیں اور متعلقہ افسران کو موقع پر ہی احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کھلی کچہریوں کے ذریعے متعدد شہریوں کو ریلیف بھی ملا ہے، تاہم مجموعی طور پر شہر میں جرائم کی صورتحال تا حال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض تھانوں کی سطح پرحکومتی پالیسی اور اعلیٰ پولیس افسران کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ بتایا جاتا ہے کہ چند تھانے سیاسی اور بااثر افراد کی چھاؤں میں چل رہے ہیں، جس کی باعث عام شہری کی شکایت مؤثر انداز میں سنی نہیں جاتی۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ بعض ایس ایچ اوز اپنی نشستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر ضروری دباؤ اور مدینہ تابعداری میں ملوث نظر آتے ہیں جس کا فائدہ جرائم پیشہ عناصر اٹھا رہے ہیں۔ سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈولفن فورس کو بھی خصوصی ٹاسک سونپ دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈولفن سکواڈ کوہدایات دی گئی ہیں کہ وہ شہر کے حساس اورگنجان علاقوں میں مسلسل پٹرولنگ، فوری رسپانس اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھے۔ ذرائع کے مطابق ڈولفن سکواڈ کی حالیہ کارروائیوں کے دوران مختلف جرائم میں ملوث متعدد اشتہاری اور ریکارڈ یافتہ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہےجبکہ مزید کارروائیاں بھی جاری ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری رہے گا اور شہر میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔







