ملتان (وقائع نگار) پاکستان میں بجلی کی پیداوار کی اصل لاگت اور صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان بہت بڑا فرق عوام کے لیے ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اور حکومتی دستاویزات کے مطابق، بجلی کی اوسط پیداواری لاگت 7 سے 10 روپے فی یونٹ کے قریب رہتی ہے (مثلاً نومبر 2025 میں 6.16 روپے اور دسمبر میں 9.62 روپے فی یونٹ)جبکہ عام گھریلو صارفین کو 34 سے 40 روپے فی یونٹ (بعض سلیب میں 47 روپے تک) ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ بعض صورتوں میں ٹیکسز، سرچارجز اور دیگر چارجز ملا کر یہ رقم 37 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔پیداواری لاگت کم، صارفین کا بل زیادہ حکومت اور نیپرا کی رپورٹس کے مطابق بجلی کی پیداوار کی خالص لاگت تقریباً 7.62 روپے فی یونٹ ہے جس میں شامل ہیں ہائیڈل، کوئلہ، گیس اور نیوکلیئر ذرائع سے پیداوارکم فیول لاگت کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں یہ لاگت مزید کم بھی ہوئی ہےلیکن صارفین تک پہنچنے تک قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اہم وجوہات یہ ہیںٹیکسز، ڈیوٹیز اور سرچارجز نیپرا کی رپورٹ کے مطابق یہ سب مل کر 20-27 روپے فی یونٹ تک کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ حکومت کے مختلف ٹیکسز (جیسے GST، ڈیوٹی، فنانس چارجز) اور سرچارجز کا بڑا حصہ یہیں شامل ہوتا ہے۔ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن چارجز تقریباً 1.37 روپے فی یونٹ ٹرانسمیشن اور 3-4 روپے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے مارجن کے لیے جاتے ہیں۔ لائن لاسز (18% تک) اور بجلی چوری کا بوجھ بھی صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت طلب سے 30-60% زیادہ ہے۔ بند پلانٹس کو بھی اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں (کیپیسٹی چارجز)، جو صارفین کے بل میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ماضی کے IPPs کے مہنگے معاہدوں کا بوجھ آج بھی جاری ہے۔گردشی قرضے اربوں روپے میں ہے (2025 کے آخر تک تقریباً 1.6 سے 1.8 ٹریلین روپے) جس کی وجہ سے حکومت سبسڈی دیتی ہے مگر مکمل ادائیگی نہ ہونے پر یہ بوجھ ٹیرف میں شامل ہو جاتا ہے۔







