بہاولپور(کرائم سیل) بہاولپور میں سرکاری نوکری دلوانے کے نام پر سادہ لوح خواتین کو مبینہ طور پر لاکھوں روپے سے محروم کرنے والے ایک گروہ کے خلاف چونکا دینے والے الزامات سامنے آ گئے ہیں متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ نوکری کا سبز باغ دکھا کر اس سے ہزاروں روپے وصول کیے گئے مگر نہ نوکری ملی اور نہ ہی رقم واپس کی گئی متاثرہ خاتون سعدیہ کا کہنا ہے کہ بستی خانقاہ شریف کی رہائشی علیشاہ ولد غلام محمد قوم لنگاہ نے خود کو بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کے ایم ایس کا اسسٹنٹ ظاہر کرتے ہوئے سرکاری ملازمت دلانے کا یقین دلایا متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اعتماد میں لینے کیلئے اسے متعدد بار ایم ایس آفس بھی لے جایا گیا جسکے بعد مبینہ طور پر 56 ہزار روپے 40 ہزار روپے نقد اور 16 ہزار روپے بنک اکاؤنٹ اور جاز کیش اکاؤنٹ کے ذریعے وصول کیے گئے انکے بقول تمام مالی لین دین کا ریکارڈ ٹرانزیکشن ہسٹری اور اسکرین شاٹس انکے پاس موجود ہیں متاثرہ خاتون نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ اس فراڈ نیٹ ورک میں توصیف لنگاہ اور توحید لنگاہ بھی مبینہ طور پر شامل ہیں جبکہ بعض بااثر عناصر اور متعلقہ دفتر کے بعض اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی کی وجہ سے متاثرین کو انصاف ملنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں سعدیہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی رقم کی واپسی اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ سمہ سٹہ میں بھی درخواست دی مگر انکے مطابق انہیں مطلوبہ دادرسی نہیں ملی متاثرہ خاتون اور بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈی پی او بہاولپور اور ایم ایس بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری شفاف تحقیقات کرائی جائیں اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو سرکاری نوکری کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی سے محفوظ بنایا جا سکے۔







