ملتان (ناصر شیخ سے) پنجاب پولیس کے کوئیک رسپانس سسٹم کے نظریے کے تحت صوبہ بھر کے عوام کو دی جانے والی 15 کالز کی سہولت کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسےجب سے سیف سٹی پراجیکٹ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اس سے کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام بہت موثر ہو چکا ہے۔ قوم ڈیجیٹل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے خصوصی گفتگو میں انچارج 15 انسپکٹر کنول سلیم اور سیف سٹی پراجیکٹ کے سوشل میڈیا ونگ کی انچارج نمرہ سعید نے بتایا کہ ہم اگر 15 پر کی جانے والی فرضی اور غلط کالز پر مقدمات کا اندراج شروع کر دیں تو روزانہ ملتان ضلع میں سو سے زائد ایف آئی آرز اسی حوالے سے درج ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ سیف سٹی سسٹم کو 15 پر ایک مہینے کے دوران 945 کالز صرف ایک نمبر سے کی گئیں تو جب مذکورہ نمبر کی تحقیقات ہوئیں تو معلوم ہوا کہ یہ گلگشت کے علاقے کے کسی شخص کا نمبر ہے تو اس شخص کو بلایا گیا جس نے 15 کے عملے کو بتایا کہ دراصل ان کا ایک بچہ معذور ہے اور وہ صرف 15 کا نمبر ہی ملا سکتا ہے اور جب 15 پر وہ کال کرتا ہے تو فون کال پر اسے یہ سننے کو ملتا ہے ’’15 پر کال کرنے کا شکریہ‘‘ تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ اپنے گھریلو اور ذاتی معاملات بھی 15 پر کال کرکے بتانے سے گریز نہیں کرتے اور اب یہ سسٹم عوام میں اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ کسی گھر کے باہر کوئی چھوٹا سا پٹاخے بھی چلے تو لوگ فون کر دیتے ہیں کہ یہاں بم بلاسٹ ہو گیا ہے۔ 15 کاؤنٹر سسٹم کی انچارج انسپکٹر کنول سلیم نے بتایا کہ ہماری ایک ساتھی خاتون آفیسر مانیٹرنگ پر بیٹھی ہوئی تھیں کہ اس نے دیکھا کہ اس کا خاوند ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی کرتا ہوا موٹر سائیکل پر جا رہا ہے جس پر سیف سٹی کے سسٹم کے تحت اس نے اپنے خاوند کا بھی چالان کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال کے عرصے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے 54 لاکھ رپورٹس ریکارڈ ہوئی جن میں سے 51 لاکھ کو وارننگ دی گئی اور صرف تین لاکھ کے چالان کیے گئے حالانکہ ان میں سے کم از کم بھی 25 لاکھ سے زائد کے چالان بنتے تھے۔ سب سے زیادہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی موٹر سائیکل سوار کرتے ہیں اور چار چار لوگوں کو بٹھا کر جن میں معصوم بچے بھی شامل ہوتے ہیں ایک ہاتھ سے موبائل کان سے لگا کر دوسرے ہاتھ سےڈرائیونگ کر رہے ہوتے ہیں۔ نمرہ سعید نے بتایا تو بعض اوقات خواتین اپنے شوہروں کے بارے میں ایسی ایسی شکایات کرتی ہیں کہ اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں فیملی سسٹم بہت بری طرح تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ بعض معاملات کے حوالے سے سوشل میڈیا نے بہت سا بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے جس کے ہم عینی شاہد ہوتے ہیں کہ سکرین پر اور فون پر بہت کچھ سننے کو ملتا ہے مگر ہمیں بہت سے پردے رکھنے ہوتے ہیں تاکہ گھریلو حالات اور گھریلو معاملات مزید خراب ہونے سے بچ جائیں۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک طرح سے بہت بڑی سوشل سروس ہے مگر عوام اس مثبت اور اعلیٰ ترین پہلو کو بسا اوقات نظر انداز کر دیتےہیں۔







