اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ پارلیمانی نظام ملک کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے اور مسائل کی بنیادی وجہ نظام نہیں بلکہ آئین پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق حکومت کی سطح پر کوئی غور یا فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے بقول یہ معاملہ نہ تو پارٹی کے کسی فورم پر زیر بحث آیا ہے اور نہ ہی حکومتی ایجنڈے میں شامل ہے۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل شفاف انداز میں مکمل ہوا اور مسلم لیگ (ن) وہاں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کے مثبت اثرات کے باعث کشمیری عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران مختلف الزامات اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا، تاہم انتخابی مراحل مکمل ہونے کے بعد اسے نتائج قبول کرنا پڑیں گے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آئندہ مرحلے میں ہونے والی 10 نشستوں میں سے کم از کم 7 پر مسلم لیگ (ن) کامیابی حاصل کرے گی۔
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین اور موجودہ پارلیمانی نظام گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے اتحاد اور استحکام کی بنیاد ہیں۔ اگر آئین پر اس کی روح کے مطابق مکمل عمل کیا جائے تو یہی نظام مستقبل کے تمام قومی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔







