تلمبہ، میاں چنوں میں ہراج گینگ کا راج، شہریوں کو اغوا کرکے تشدد، جوتے چٹوائے، حکومتی رٹ چیلنج

تلمبہ/ میاں چنوں (خصوصی رپورٹ)پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں اور تلمبہ کے علاقے جرائم پیشہ عناصر اور بدمعاشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ نوری سہاگ کے رہائشی بااثر ملزمان عمر دراز عرف’’درازی ہراج‘‘ اور رضوان عرف ’’سلی ہراج‘‘ نے اپنے مسلح گینگ کے ہمراہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی ہےجبکہ مقامی پولیس مبینہ طور پر ان کے اثر و رسوخ اور غنڈہ گردی کے باعث کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔تازہ واقعہ میںشہریوں پر بدترین تشدد اور تذلیل کی گئی۔ تھانہ تلمبہ میں درج مقدمہ نمبر 791/26 کے مطابق ملزمان عمر دراز (درازی)، سلی ہراج، اللہ دتہ، یاسین اور منور نے اپنے دیگر مسلح ساتھیوں کے ساتھ مل کر چوک 18/8R کے قریب موٹر سائیکل سوار شہریوں محمد فہیم، رضا اور زین عباس کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا۔ ملزمان نے لوہے کے راڈز اور ڈنڈوں سے شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا، زین عباس کی جیب سے 75ہزارروپے لوٹ لیے اور اسے بدترین تذلیل کا نشانہ بناتے ہوئے زبردستی منہ میں جوتا ڈال کر چٹوانے پر مجبور کیا۔ ملزمان نے اس وحشیانہ فعل کی باقاعدہ ویڈیو بنائی اور متاثرہ شہری سے زبردستی کہلوایا کہ’’درازی ہراج ہمارا باپ ہے‘‘۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پھیلا ہوا ہے۔تازہ ترین واقعے کا مرکزی کرداردرازی ہراج کوئی عام مجرم نہیں بلکہ ایک انتہائی خطرناک، سفاک اور عادی ملزم ہے۔ کچھ عرصہ قبل نوری سہاگ کے علاقے میں ایک مجرا پارٹی کے دوران درازی ہراج نے سرِعام فائرنگ کر کے ایک خواجہ سرا کو موقع پر ہی قتل کر دیا تھا۔ اس سنگین قتل کے علاوہ ملزم چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی اور شہریوں پر فائرنگ کے درجنوں مقدمات میں ملوث ہے۔ درازی ہراج قانون کا تمسخر اڑاتے ہوئے چند دن جیل کاٹ کر دوبارہ باہر آ جاتا ہے اور نئی وارداتیں شروع کر دیتا ہے۔منشیات کا بے تاج بادشاہ اور پولیس پر حملہ آوراس گینگ کا دوسرا سرغنہ’’سلی ہراج‘‘ہےجس کا پورا خاندان منشیات فروشی کے گھناؤنے دھندے میں ملوث ہے۔ سلی ہراج کے تمام بھائی اس وقت بھی منشیات فروشی کے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیںجبکہ باہر سے یہ نیٹ ورک اب سلی ہراج خود چلا رہا ہے۔ اس گینگ کی دلیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل سلی ہراج نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تلمبہ میں تعینات سب انسپکٹر ذیشان تھہیم پر سیدھی فائرنگ کر دی تھی جس کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس اسے گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ 15 دنوں میں دوسری بڑی واردات سامنے آئی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق اس گینگ نے علاقے میں ایک باقاعدہ گینگ وار اور دہشت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ محض چند دن پہلے میاں چنوں کے نواحی گاؤں 131/15L میں اسی گینگ نے جنید قادری نامی شخص کے ساتھ مل کر ایک خوانچہ فروش کے گھر پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کا مقدمہ بھی درج ہے۔ 15 دنوں کے اندر اندر درازی ہراج اور سلی ہراج گینگ کی یہ دوسری بڑی واردات ہےجس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔مقا می شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اس گینگ کے سامنے بے بس نظر آتی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی جان، مال اور عزتیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ آئی جی پنجاب، آر پی او ملتان اور ڈی پی او خانیوال سے پرزور مطالبہ ہے کہ اس خطرناک گینگ کے خلاف فوری گرینڈ آپریشن کیا جائے، ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے اور شہریوں کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں