پنجاب: 2 ہزار بچوں سے زیادتی، اپنوں پر اعتماد کا قتل، 9.1 فیصد ملزم شناسا

ملتان(شیخ نعیم سے ) پنجاب میں کم عمر بچوں کے خلاف جنسی استحصال اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تیار کی گئی ایک تفصیلی تجزیاتی رپورٹ میں نہایت تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران صوبے میں دو ہزار سے زائد بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ متعدد واقعات میں بچوں کو قتل بھی کر دیا گیا۔ ان واقعات کے رجحانات، متاثرین کی عمروں، ملزمان کے تعلق اور جرائم کے انداز کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مرتب کی گئی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ رپورٹ کے مطابق جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں میں ساٹھ فیصد سے زائد لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں، جبکہ متاثرہ بچیوں کی شرح تقریباً اڑتیس سے چالیس فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم عمر بچوں کے خلاف جرائم کسی ایک علاقے یا طبقے تک محدود نہیں رہے بلکہ مختلف اضلاع اور معاشرتی طبقات میں ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔تجزیاتی رپورٹ میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا کہ بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث تقریباً اکیانوے فیصد ملزمان متاثرہ بچوں یا ان کے اہل خانہ کے جاننے والے تھے۔ ان میں دکاندار، رکشہ ڈرائیور، اساتذہ، قریبی رشتہ دار اور دیگر ایسے افراد شامل ہیں جن پر بچے یا ان کے والدین اعتماد کرتے تھے۔ذرائع کے مطابق -یہی اعتماد اکثر ملزمان کو بچوں تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے، جس کے باعث ایسے جرائم کی روک تھام مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جنسی استحصال کا سب سے زیادہ نشانہ سات سے بارہ سال عمر کے بچے بنے۔ ذرائع کے مطابق- اس عمر کے بچے جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر زیادہ حساس ہوتے ہیں اور اکثر خوف، شرمندگی یادھمکیوں کی وجہ سے بروقت اپنے ساتھ ہونے والے ظلم سے متعلق کسی کو آگاہ نہیں کر پاتے، جس سے ملزمان کو اپنے جرائم چھپانے کا موقع مل جاتا ہے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں، مساجد، محلوں اور کمیونٹی سطح پر بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنایا جائے، والدین کو بچوں کی حفاظت اور مشکوک رویوں کی نشاندہی کے حوالے سے تربیت دی جائے، جبکہ سکولوں میں بچوں کو ذاتی حفاظت، غیر مناسب رویوں کی پہچان اور بروقت اطلاع دینے کے بارے میں باقاعدہ تعلیم فراہم کی جائے۔مزید سفارشات میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں ملوث ملزمان کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے، تحقیقات کے معیار کو بہتر بنایا جائے، جدید فرانزک سہولیات سےاستفادہ کیا جائے اور متاثرہ بچوں کے لیےنفسیاتی و قانونی معاونت کو یقینی بنایا جائے تاکہ متاثرین کی بحالی اور انصاف کی فراہمی کا عمل مؤثر بنایا جا سکے۔رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور پورے معاشرے کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے اور ایسے سنگین جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں