ریاض: سعودی عرب نے اپنی تیل تنصیبات پر ہونے والے مبینہ ڈرون حملوں کے بعد عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں کے مخصوص ٹھکانوں کے خلاف جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ساتھ رابطے اور تعاون کے تحت کی گئی۔ سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ مسلح افواج نے عراق میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث عناصر سے منسلک تھے
رپورٹس کے مطابق سعودی رائل ایئر فورس نے عراق کے مختلف علاقوں، جن میں بصرہ، واسط، کربلا اور نینویٰ شامل ہیں، میں کارروائیاں کیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود ایران نواز ملیشیائیں مسلسل مملکت کے خلاف سرگرم تھیں، جس کے جواب میں یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد قومی سلامتی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ملکی اقتصادی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری، شہریوں اور اہم قومی تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، اور مستقبل میں کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے بھی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حقِ دفاعِ خود کے مطابق کیا گیا۔
وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے عراق سے ڈرون حملوں کے ذریعے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد محدود اور ہدفی جوابی کارروائی کی گئی۔
سعودی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت خطے میں کشیدگی بڑھانے کی خواہش نہیں رکھتی، تاہم اگر قومی سلامتی، خودمختاری یا اہم مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔







