ملتان( قوم ایجوکیشن سیل) پنجاب کے8 تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں کی تقرری کے لیے قائم سرچ کمیٹی کی سفارشی اورمنتخب امیدواروں کی فہرست منظر عام پر آنے کے بعد تعلیمی حلقوں میں میرٹ، شفافیت اور سفارشی کلچر کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔سرچ کمیٹی نے ہر بورڈ کے لیے ایک منتخب اور ایک متبادل (سفارش کردہ) امیدوار کا نام فائنل کر دیا۔ بعض ناموں نے تقرریوں کے معیار اور طریقہ کار پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیرہ غازی خان کے لیے ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو اسلام آباد عباس حیدر (گریڈ 19) کو منتخب امیدوار قرار دیا گیا ہے جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف (گریڈ 21) کا نام سفارش کردہ امیدوار کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ لاہور بورڈ کے لیے خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے پروفیسر انجینئر ڈاکٹر بدرالاسلام (گریڈ 21) کو منتخب جبکہ دوسرے نمبر پر ایک اور امیدوار محمدعرفان(گریڈ19)کا نام سفارش کردہ کے طورپر رکھا گیا ہے۔ملتان بورڈ کے لیے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان کے چیئرمین ڈاکٹر رانا بنیامین (گریڈ 20) کو منتخب امیدوار قرار دیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے ڈاکٹر اعجاز احمد (گریڈ 20) کوتقرری کے لیے موزوں قرار دیا گیا امیدوارکے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ بہاولپور بورڈ کے لیے نیشنل کریکولم کونسل اسلام آباد کی ڈائریکٹر ڈاکٹر تبسم ناز (گریڈ 20) جبکہ متبادل امیدوار کے طور پر گورنمنٹ کالج وہاڑی کی شمائلہ خالق (گریڈ 20) کے نام شامل کیے گئے ہیں۔اسی طرح فیصل آباد بورڈ کے لیے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی ڈاکٹر اقصیٰ شبیر (گریڈ 20) منتخب امیدوارجبکہ فیصل اعجاز(گریڈ19)کومتبادل امیدوارکے طورپررکھاگیاہے۔گوجرانوالہ بورڈ کے لیے سرگودھا یونیورسٹی کے ڈائریکٹر آئی ٹی اشتیاق احمد (گریڈ 19) منتخب امیدوار،احمراقبال (گریڈ19)کوتقرری کے لیے موزوں قرار دیا گیا امیدواررکھاگیاہے۔راولپنڈی بورڈ کے لیے بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے پروفیسر طاہر محمود (گریڈ 21) منتخب امیدوار،ڈائریکٹراکیڈمکس ایچ ای سی اسلام آباد ڈاکٹرفریدہ انجم(گریڈ19)کومتبادل کے طورپررکھاگیاہے۔ ساہیوال بورڈ کے لیے پنجاب یونیورسٹی کے ہیلی کالج کے پرنسپل ڈاکٹر احمد منیب مہتا (گریڈ 20) کو منتخب جبکہ ڈاکٹرمحمدادریس کومتبادل امیدوار کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔فہرست سامنے آنے کے بعد تعلیمی ماہرین اور اساتذہ تنظیموں نے تقرریوں کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ متعدد امیدواروں کا براہ راست امتحانی بورڈز، امتحانی نظام یا تعلیمی تشخیص کے شعبے سے محدود تعلق رہا ہےجس کے باعث یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا تقرریوں میں متعلقہ تجربے کو ترجیح دی گئی یا انتظامی و سفارشی عوامل کو۔تعلیمی مبصرین کے مطابق بعض بورڈز کے لیے ایسے امیدواروں کے نام شامل کیے گئے ہیں جن کا بنیادی شعبہ انٹیلی جنس، آئی ٹی، نفسیات یا عمومی انتظامی امور سے تعلق رکھتا ہےجبکہ امتحانی بورڈز کی سربراہی کے لیے خصوصی تعلیمی و امتحانی تجربہ بنیادی تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تقرریوں کا عمل مکمل طور پر شفاف نہ ہوا تو مستقبل میں یہ معاملہ عدالتی فورمز تک بھی جا سکتا ہے۔دوسری جانب محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال اس فہرست کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ تاہم تعلیمی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بورڈ چیئرمینوں کی تقرریاں مکمل میرٹ، شفافیت اور پیشہ ورانہ اہلیت کی بنیاد پر کی جائیں تاکہ امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔







