خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں-خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں-پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف کل سے ٹریبونلز کاروائیاں، پچھلے نوٹیفکیشنز منسوخ-پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف کل سے ٹریبونلز کاروائیاں، پچھلے نوٹیفکیشنز منسوخ-منتخب کون سفارش کردہ کون؟ ملتان سمیت 8 تعلیمی بورڈز کیلئے چیئرمینوں کی مبینہ فہرست لیک-منتخب کون سفارش کردہ کون؟ ملتان سمیت 8 تعلیمی بورڈز کیلئے چیئرمینوں کی مبینہ فہرست لیک-سوزش، گیس اور بڑھتے وزن سے پریشان؟ سونف، زیرہ اور اجوائن کا پانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے-سوزش، گیس اور بڑھتے وزن سے پریشان؟ سونف، زیرہ اور اجوائن کا پانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے-دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ٹریلینئر کا اعزاز برقرار نہ رہ سکا-دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ٹریلینئر کا اعزاز برقرار نہ رہ سکا

تازہ ترین

خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں

خانیوال( قوم نیوز) ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت تحصیل خانیوال میں فرائض انجام دینے والے سینٹری ورکرز نے تنخواہوں میں کٹوتیوں، سوشل سکیورٹی سہولیات کی عدم فراہمی اور حکومت پنجاب کی جانب سے اعلان کردہ خصوصی اعزازی رقم نہ ملنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔متاثرہ ورکرز کے مطابق عیدالاضحیٰ سے قبل انہیں ایڈوانس تنخواہیں جاری کی گئیںتاہم بعد ازاں ان کی ماہانہ تنخواہوں سے دس ہزار روپے کی کٹوتی کر لی گئی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب اور وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی جانب سے صفائی ورکرز کے لیے اعلان کردہ دس ہزار روپے کی خصوصی اعزازی رقم بھی تاحال ادا نہیں کی گئی، جس کے باعث ملازمین میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق تحصیل خانیوال میں ستھرا پنجاب منصوبے کے تحت اے این ڈبلیو انٹرپرائزز بطور نجی کنٹریکٹر صفائی کے امور سرانجام دے رہی ہے۔ ورکرز کا مؤقف ہے کہ کمپنی ہر ماہ ان کی تنخواہوں سے سوشل سکیورٹی کی مد میں کٹوتی کرتی ہے، لیکن تقریباً دس ماہ گزرنے کے باوجود ستر فیصد سے زائد ملازمین کو سوشل سکیورٹی راشن کارڈ جاری نہیں کیے گئے۔متاثرہ ملازمین کا مزید کہنا ہے کہ انہیں بقایا جات اور اعلان کردہ اعزازی چیک سے بھی محروم رکھا گیا ہے جبکہ بعض ورکرز سے مبینہ طور پر زبردستی ایسے بیانات لیے جا رہے ہیں جن میں یہ ظاہر کیا جائے کہ انہیں تمام واجبات اور مراعات موصول ہو چکی ہیں۔نوکری سے برخاست کیے جانے کے خدشے کے باعث متاثرہ ورکرز نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے حکومت پنجاب، وزیر بلدیات اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہوں سے کی گئی کٹوتیوں، سوشل سکیورٹی سہولیات کی عدم فراہمی اور اعلان کردہ دس ہزار روپے کی ادائیگی کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ صفائی ورکرز میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں