پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے ماس کمیونیکیشن کے تھیسز میں میرا ٹاپک
0pinion of Indian viewers about PTV transmission.
تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی صاحب جو ہمارے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے اور پروفیسر مجاہد منصوری صاحب نے یہ ٹاپک مجھے اس لیے دیا کہ میرے ان سکھوں سے بہت ہی زیادہ دوستانہ مراسم تھے جو بادشاہی مسجد کے پہلو میں واقع مہاراجہ رنجیت سنگھ کی مڑی میں قیام پذیر تھے. ان پر الزام تھا انہوں نے ننکانہ صاحب میں ایک بھارتی سفارت کار پر تشدد کیا تھا اور ان پر پاکستان میں مقدمہ چل رہا تھا۔ وہ چاروں سکھ اکثر میرے پاس پنجاب یونیورسٹی آ جاتے تھے اور ہم گھنٹوں گپیں لگایا کرتے تھے۔ وہ پی ٹی وی کے عروج کا زمانہ تھا اور یہ وہ دور تھا جب بھارت سے ننکانہ صاحب بابا گرونانک کے ہاں ماتھا ٹیکنے کے لیے آنے والے سکھ ایبٹ روڈ لاہور پر پی ٹی وی اسٹیشن کے سامنے گیٹ پر گھنٹوں انتظار کرتے تھے کہ ہمیں فلاں اداکار سے ملوا دیں اور وہ ایک ایک کا نام لے کر ان سے ملتے اور انتہائی عقیدت کا اظہار کیا کرتے تھے۔
تھیسز کے لیے میں نے اردو میں 40 سوالوں پر مشتمل ایک سوالنامہ تیار کیا اور پھر اس کا اپنے سکھ دوستوں سے گرمکھی میں ترجمہ کروایا۔ پھر وہ سوالنامے بھارت سے مختلف اوقات میں آنے والے سکھوں اور ہندوؤں میں تقسیم کرکے ان سے جواب حاصل کیے تو میرا وہ تھیسز یونیورسٹی میں ماسٹر پیس قرار پایا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک ہندو ایگزیکٹو انجینیئر اور ان کی ڈاکٹر اہلیہ نے میرے سوالات کے جواب میں میرے ساتھ طویل گفتگو کی اور کہا کہ ایک پاکستانی ڈرامے کا سین کچھ اس طرح سے تھا کہ بیٹا 20 سال بعد اپنی ماں سے مل رہا تھا. اب سین کی ڈیمانڈ یہ تھی کہ ماں اور بیٹا آپس میں گلے ملیں۔ لیڈی ڈاکٹر بتانے لگی میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ چونکہ حقیقی زندگی میں یہ عورت اور یہ نوجوان لڑکا ماں بیٹا تو نہیں تھے لہذا یہاں پاکستان ٹیلی ویژن کے پروڈیوسر عملے اور مسلے یعنی مسلمانوں کا امتحان ہیں۔ لیڈی ڈاکٹر نے بتایا کہ ڈرامے کی قسط یہاں پر ختم ہو گئی اور مجھے آٹھ دن انتظار کرنا پڑا پھر اگلی قسط میں انہوں نے ڈرامے کی پچھلی قسط کا کچھ حصہ دکھایا اور پھر ماں کا کلوز اپ لیا، بیٹے کا کلوز اپ لیا، آنسو دونوں طرف سے ندی کی طرح بہے، دونوں گلے بھی نہ ملے اور کس کمال سے ماں بیٹے کی ملاقات دکھا دی گئی، رشتوں کا بھرم بھی رہ گیا۔ ہندو لیڈی ڈاکٹر کہنے لگی میں تو اسی دن سے پی ٹی وی کی فین ہوں اور میں صرف پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھتی ہوں۔ اس قسم کی درجنوں مثالیں میرے اس تھیسز میں موجود تھیں۔ بعد میں اس سوال نامے کا میں نے گرمکھی سے اردو اور پھر انگلش میں ترجمہ کیا اس طرح اپنے تھیسز کو مکمل کیا۔ مجھے یاد ہے کہ سکھ میری منتیں کیا کرتے تھے کہ کسی طریقے سے دلدار پرویز بھٹی، عابد علی و دیگر سے ملاقات ہو سکتی ہے تو ہماری ایک مرتبہ ان سے ملاقات کروا دیں۔
یہ ماضی کا پی ٹی وی تھا اور میرے ذہن میں پی ٹی وی کا وہ بھرم اور معیار گزشتہ تین چار سال تک قائم رہا کی بھرم جاتے جاتے ہی جاتا ہے مگر جب سے میں نے ملتان کے پی ٹی وی اسٹیشن کے الودہ حالات کو سنا جانا اور دیکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی چیز کوہ ہمالیہ کی چوٹی سے گر کر بحر الکاہل کی تہ میں جا پہنچی ہو۔ جب سے پی ٹی وی پر دماغ سے سوچنے والوں کی بجائے پیٹ اور کہیں اور سے سوچنے والے بابووں کا قبضہ ہوا ہے، کوئی گراوٹ سی گراوٹ ہے کہ بیان سے باہر ہے۔
..حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے..
ویسے تو پوری دنیا میں اخلاقی زوال عروج پر ہے مگر پاکستان کا قصہ ہی نرالا ہے۔ ہم نے تو جو قران مجید کے ترجمے اور جو مختلف واقعات پڑھ رکھے ہیں کہ کس طرح حضرت موسی نے فرعون جیسے طاقتور کے سامنے حق کی آواز بلند کی اور فرعون کی خدائی کے دعوے کو نیست و نابود کیا مگر آج کے موسی کو فرعونوں کی صف میں کھڑے دیکھ کر یہ یقین محکم ہو رہا ہے کہ قرب قیامت کا دور آ چکا ہے۔
میں یہ فرمان نبویؐ بارہا سن چکا ہوں کہ ایمان کے تین درجے ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ ظلم اور زیادتی ہوتے دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو، دوسرا درجہ یہ ہے کہ ظلم اور زیادتی دیکھو تو زبان سے روکو اور تیسرا درجہ یہ قرار دیا کہ ظلم اور زیادتی کو دیکھو تو دل سے برا سمجھو مگر فرمایا کہ یہ کمزور ایمان کی نشانی ہے۔ میں نے ساری زندگی اپنے آپ سے یہی سوال کیا کہ اگر ایمان پہ رہنا ہے تو تیسرے درجے پر رہ کر خود کو کیوں دنیا اور آخرت میں گرانا۔ اس سوال کا میرے اندر سے ہمیشہ یہی جواب آیا کہ یا تو پہلے درجے پر رہو یا دوسرے درجے پہ۔ الحمدللہ زندگی میں کبھی تیسرے درجے پر جانے کی نوبت نہیں آئی اور ایسا صرف اور صرف کرم کی بدولت تو ہو سکتا ہے میرے اعمال کی بدولت نہیں۔
قران مجید سے یہ سیکھا کہ اللہ تبارک و تعالی نے جو اہم ترین بات کرنی ہوتی تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مخاطب کیا جاتا، اور اللہ تبارک و تعالی نبی پاک کو مخاطب کرتے ہوئے جو فرماتا ہے اس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ اے میرے پیغمبر، اگر ساری دنیا کے لوگ تمہارا نقصان کرنا چاہیں اور تمہارا اللہ تمہارا بھلا کرنا چاہے تو تمہارا نقصان نہیں ہو گا بھلا ہی ہوگا اور اگر ساری دنیا کے لوگ تمہارا بھلا کرنا چاہیں اور اللہ ایسا نہ چاہے تو تمہارا بھلا نہیں ہو گا۔ رہی بات عزت و ذلت کی تو وہ تو اللہ تبارک و تعالی کے ہاتھ میں ہے اور پی ٹی وی ملتان میں ایک دکھی لڑکی پر جب چند سطحی سوچ کے حامل افراد نے اپنے گھناونے عزائم کے لیے گرد پھینکنے کی کوشش کی تو وہ گرد انہی کے منہ پر پڑ گئی اور جائے نماز کے مسلسل گریہ نے تکبر کی کرسی کو شکست دے دی۔ ویسے بھی عورتوں کو زیر عتاب لانا غیرت مند مردوں کا شیوہ نہیں مگر کیا کریں دور جدید میں جہاں بہت سے مفہوم تبدیل ہوئے ہیں وہاں غیرت کا مفہوم بھی بدل چکا ہے ۔(جاری ہے)







