رحیم یارخان (بیورو رپورٹ )ایکسین ضلع کونسل ،سب انجینئروں اور ٹھیکیداروں کا”ٹرائیکا”پنجاب حکومت اور محکمہ لوکل گورنمنٹ کو کروڑوں روپے کا چونا لگا دیا،14 ترقیاتی سکیموں میں سے 9 سکیموں پر میٹلڈ روڈ،سیوریج سسٹم کی بحالی،پلوں کی تعمیر،جبکہ مضافاتی علاقوں کی 5 سکیموں پر سرے سے کوئی ترقیاتی کام ہی نہ کیا،مخیر حضرات کی جانب سے لگائی جانیوالی سولنگز،پینے کے صاف پانی کے منصوبے ایکسین اور سب انجینئرز نے اپنے کھاتے میں ڈال کر کروڑوں روپے ڈکار لئے،افسران نے کرپشن کو چھپانے کیلئے ٹھیکیداروں کو نواز دیا،ضلع کونسل کے تحت ہونیوالی ترقیاتی کاموں کے آڈٹ،انسپکشن کیلئے شہری نے وزیر اعلیٰ پنجاب،چیف سیکرٹری پنجاب،کمشنر بہاولپورسمیت انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو درخواست دیدی،کاروائی کا امکان۔میری تعیناتی سے قبل یہ منصوبہ جات شروع ہوئے،میڈیا کے توسط سے معاملہ نوٹس میں آیا ہے جس کی انکوائری کروا رہا ہوں،حتمیٰ رپورٹ ملنے پر میڈیا سے تفصیلی آگاہ کیا جائیگا،چیف آفیسر ضلع کونسل نصر اللہ ملک،ایکسین یاسر،سب انجینئرز عدیل،جہانگیر اور جام بشیر تردید کردی۔تفصیل کے مطابق ضلع کونسل رحیم یارخان کی تقریباً 20 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کی 14 ترقیاتی اسکیموں میں مبینہ کمیشن خوری، ایڈوانس بلنگ، ناقص میٹریل کے استعمال، غیر معیاری تعمیراتی کام اور قواعد کے برعکس ادائیگیوں کا بڑا سکینڈل سامنے آگیا ہے ،4 دسمبر 2025 کو ہونیوالے ٹینڈرز کے مطابق تحصیل رحیم یارخان کے 14 علاقوں میں سیوریج،ٹف ٹائل،ڈرینج،میٹلڈ روڈ اور سولنگ لگائی جانی تھی۔ذرائع کے مطابق منصوبوں میں رکن پور روڈ سے بستی بیراران، بستی اکرم خان دشتی، بستی فضل خان مستوئی، بستی جام اللہ بخش گنگا، بستی محمد دین چانڈیا، بستی جام نصیر کہیل، بستی میاں مصطفیٰ اور دیگر دیہی علاقوں میں میٹلڈ سڑکوں کی تعمیر شامل ہے جن پر مجموعی طور پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے،ریکارڈ کے مطابق صرف سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں پر تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے،جبکہ کوٹ سمابہ، میانوالی قریشیاں، سردار گڑھ، محمد پور قریشیاں، دولت پور، حاجی پور، تھل خیر محمد، مسلم آباد، کوٹ کرم خان، مرتضیٰ آباد، ماؤ مبارک، بلاقی والی اور تاج گڑھ میں سیوریج، سولنگ، کلورٹس، ڈرینج اور ٹف ٹائلز کے منصوبوں پر 14 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی۔معتبر سرکاری ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ 14 ترقیاتی منصوبوں میں سے صرف 9 منصوبوں پر کام کیا گیا ہے جبکہ 5 منصوبوں پر سرے سے کوئی ترقیاتی کام ہی نہیں ہوئے،ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق پی ٹی آئی حکومت کے دور میں سابق وفاقی و صوبائی وزراء مخدوم خسرو بختیار،مخدوم ہاشم جواں بخت نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے رحیم یارخان کی تعمیر و ترقی کیلئے اربوں روپے کا میگا سٹی پراجیکٹ لیا تھا جس سے مضافاتی علاقوں میں سڑکوں کے جال بچھائے گئے اور سیوریج سسٹم سمیت پلوں کی تعمیر کروائی گئی تھی ،ضلع کونسل کے ایکسین یاسر امین،سب انجینئروں عدیل،جہانگیر اور جام بشیر نے انہیں میٹلڈ روڈز اور سیوریج سسٹم کو دوبارہ فعال قرار دیکر ترقیاتی اسکیموں کے نام پر جاری ہونیوالی کروڑوں روپے ڈکار لئے ،اپنی کرپشن کو چھپانے اور ٹھیکیداروں کا منہ بند کرنے کیلئے تقریباً25 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ٹھیکیداروں کو بھی دی گئی ،تحقیقات میں یہ الزام سامنے آیا ہے کہ بعض منصوبوں میں کام مکمل ہونے سے قبل بلنگ کی گئی جبکہ متعدد مقامات پر ناقص میٹریل کے استعمال اور تخمینے کے برعکس تعمیراتی کام کیے جانے کے شواہد بھی موجود ہیں، بعض علاقوں میں مقامی مخیر حضرات کے تعاون سے شروع ہونے والے ترقیاتی کاموں کو سرکاری منصوبے ظاہر کرکے سرکاری فنڈز کے اجرا کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں،دستاویزات کے مطابق اسکیم نمبر 37 کے تحت میونسپل کمیٹی کوٹ سمابہ میں 3 کروڑ روپے کی لاگت سے سیوریج سسٹم، بحالی اور ٹف ٹائلز کی فراہمی کا منصوبہ شامل تھا جبکہ اسکیم نمبر 46 اور 47 میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے مختلف یونین کونسلوں میں سیوریج لائنیں، ڈرینز، کلورٹس اور ٹف ٹائلز کی تنصیب شامل تھی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں اور تعمیراتی معیار سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اسی طرح اسکیم نمبر 36 کے تحت فتح مائنر کے قریب دو پلوں کی تعمیر کے لیے 35 لاکھ روپے مختص کیے گئے جبکہ مختلف دیہی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں میں بھی معیار اور ادائیگیوں کے حوالے سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔دستیاب ریکارڈ کے مطابق ضلع کونسل کے ایگزیکٹو انجینئر اور متعلقہ سب انجینئرز کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام 14 منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ، فرانزک انسپکشن اور مالیاتی جانچ کرائی جائے تاکہ عوامی فنڈز کے استعمال کی حقیقت سامنے آسکے،شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبوں کی مکمل تحقیقات کروا کر ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور عوامی خزانے کے ممکنہ نقصان کا ازالہ کیا جائے۔اس حوالے سے ضلع کونسل کے چیف آفیسر نصراللہ ملک نے اپنے موقف میں بتایا کہ انکی تعیناتی کو چند ماہ ہوئے یہ منصوبے سابق چیف آفیسر ضلع کونسل چوہدری شفیق کے دور میں شروع ہوئے تھے جن تقریباً مکمل ہو چکے ہیں اور ٹھیکیداروں کو باقاعدہ انکی ادائیگیاں بھی کردی گئی ہیں منصوبوں میں کرپشن کے حوالے سے کئے جانیوالے سوال پر انہوں نے بتایا کہ میڈیا کے توسط سے معاملہ نوٹس میں آیا ہے جس کی انکوائری کروا رہا ہوں حتمیٰ رپورٹ ملنے پر میڈیا سے تفصیل سے آگاہ کیا جائیگا۔جبکہ ایکسین ضلع کونسل یاسر امین،سب انجینئرز جام بشیر،عدیل اور جہانگیر سے الزامات کی تردید کردی ہے۔







