لودھراں: یونین کونسلوں میں مبینہ کرپشن، ریکارڈ بھی مشکوک، مزید انکشافات

لودھراں(انویسٹی گیشن سیل)ضلع لودھراں کی یونین کونسلوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور فیک بلنگ کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات نے مقامی حکومتوں کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ روزنامہ قوم کی مسلسل تحقیقات کے نتیجے میں ایسے شواہد اور دستاویزات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جن کے مطابق متعدد یونین کونسلوں میں سرکاری فنڈز کے استعمال،بلنگ اور اخراجات کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر سنگین تضادات موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق یونین کونسل میراں پور اور ساندھی والا کے بعد دیگر یونین کونسلوں کے مالی معاملات بھی تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ بعض مقامات پر کمپیوٹر مرمت، بائیو میٹرک ڈیوائسز، پینا فلیکس، موبائل پیکجز، صفائی مہمات اور دیگر انتظامی اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے خرچ ظاہر کیے گئےتاہم مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے کاموں کے عملی آثار نظر نہیں آتےبعض یونین کونسلوں میں محدود سرکاری سرگرمیوں کے باوجود اخراجات غیر معمولی حد تک بڑھائے گئے جبکہ بعض بلوں اور واؤچرز کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ باخبر حلقوں کے مطابق مختلف ادارے خاموشی سے ریکارڈ اکٹھا کرنے اور معاملات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں، جس کے باعث کئی افسران اور اہلکاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔شہری حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض دفاتر میں پیدائش، وفات، نکاح نامہ، خاندانی رجسٹریشن اور دیگر دستاویزات کے حصول کے لیے آنے والے سائلین سے بھی مبینہ طور پر غیر قانونی رقوم وصول کی جاتی ہیں، جس کے باعث عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دوسری جانب ضلع بھر میں یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ اگر یونین کونسلوں کو جاری کیے گئے لاکھوں اور کروڑوں روپے کے فنڈز واقعی عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہوئے ہیں تو ان کے اثرات عوام کو واضح طور پر نظر آنے چاہئیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام یونین کونسلوں کے مالی ریکارڈ، بینک اکاؤنٹس، بلوں، واؤچرز اور ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے کارروائی عمل میں لائی جائے۔سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملتان اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شفاف تحقیقات نہ کرائی گئیں تو عوام کے ذہنوں میں موجود شکوک و شبہات مزید گہرے ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید یونین کونسلوں کے مالی معاملات سے متعلق اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں