راجن پور: جعلی کھاد سود پر فروخت، کپاس تباہ، 60 میں سے 58 فیکٹریاں کباڑ میں بک گئیں

راجن پور(ڈپٹی بیورو چیف) جعلی کھادیں سود پر فروخت ہونے لگیں۔محکمہ زراعت کی ملی بھگت سے زرعی شعبہ تباہ ہو گیا۔راجن پور کا کاشتکار پائی پائی کا محتاج ہو گیا۔کپاس کو لگنے والی بیماریوں سے متعلق زراعت آفیسران کی لاعلمی حیران کن ہے جو ٹھنڈے کمروں سے باہر فیلڈ میں آنے کو تیار نہیں۔ پنجاب کے پسماندہ ترین ضلع راجن پور کی زراعت کو جعلی کھادوں اور بیج نے تباہ کر دیا ہے۔ راجن پور میں زراعت کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ 60 سے زائد کاٹن فیکٹریوں میں سے صرف دو کاٹن فیکٹریاں بچ گئیں ہیں باقی فیکٹریاں کباڑ میں فروخت کر دی گئی ہیں۔ یاد رہےپاکستان بھر میں ضلع راجن پور سب سے زیادہ کاٹن پیدا کرتا تھا۔امسال گندم کی ایوریج 35من فی ایکڑ ہوئی ہے جبکہ چند سال قبل60سے 70 من ہوتی تھی۔الزام لگایاجاتا ہے کہ محکمہ زراعت کی ملی بھگت سے مارکیٹ میں مختلف ناموں سے درجن سے زائد غیر معروف سیڈ کارپوریشنز آگئی ہیں۔ تھیلوں میں پیک کر کے بیج کے نام پر 3000ہزار والی گندم سات ہزار میں فروخت کی جاتی ہیں۔اسی طرح کھادیں اور زرعی ادویات انعامی سکیم کے ساتھ بیچی جاتی ہیں اور ڈیلروں کو غیر ممالک کے وزٹ کی سکیمیں چلائی جاتی ہیں۔اس مارکیٹ میں سودی کاروبار بھی عروج پر پہنچ گیا ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ دو نمبر زرعی ادویات اور کھادیں ایک تو مہنگے داموں سود پر فروخت کرتے ہیں اور مجبور بے بس کاشتکاروں کو زرعی ادویات کے ساتھ ڈیزل اور دیگر اشیاء بھی سود پر دیا جاتا ہے۔ فصل جب تیار ہوتی ہیں تو ڈیلرز کھیت سے ہی اپنے ریٹ پر فصل اٹھا کر لے جاتے ہیں۔پانی کے کمی کے مسائل سنجیدہ صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔پانی ٹیل تک نہیں پہنچتا سہ ماہی نہریں ہیں سالانہ کی جائیں۔زیر زمین پانی کڑوا ہے جس سے زمین کلراٹھی ہو چکی ہے۔کاشتکاروں کو کئی مسائل کا سامنا ہے محکمہ زراعت کے سینکڑوں ملازمین علاقے میں جانے کی بجائے گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں اور گاڑیوں کے تیل کی مد میں فرضی رپورٹیں تیار کر کے خزانے کو خالی کر رہے ہیں ان کی وفاداریاں کاشتکاروں کی بجائے ڈیلروں سے ہیں۔ کسان اتحاد کے ضلعی صدر راو شوکت علی خان نے ڈپٹی کمشنر راجن پور سے کھاد اور زرعی ادویات کے خفیہ گوداموں کی چیکنگ، مسائل کا خاتمہ اور زراعت آفیسران کو ٹھنڈے کمروں سے فیلڈ میں بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں