نشتر ایڈز کیس: ڈاکٹر مسعود ہراج 46 سوالوں کا جواب دینے میں ناکام، مزید 2 پیش

نشتر ایڈز کیس ملتان( قوم ہیلتھ ریسرچ سیل) نشتر ہسپتال ملتان میں ایڈزکے مریض کی سرجری کےحوالے سے سینئر سرجن ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج کو دو مختلف خبروں میں مجموعی طور پر 46 سوالات بھیجے گئے تھے جن میں سے کسی کا بھی جواب نہیں ملا۔ دو سوالات باقی رہ گئے ہیں وہ بھی روزنامہ قوم کے صفحات میں شائع کئے جا رہے ہیں اور اگر ڈاکٹر ہراج مناسب سمجھیں تو ان کا جواب دے دیں۔
1۔کیا سپروائزر یا سینئر ڈاکٹر اور پروفیسر کی موجودگی کے بغیر کوئی انڈر ٹریننگ یا زیر تربیت ڈاکٹر آپریشن کر سکتا ہے۔ اگر اس کا جواب ناں میں ہے تو پھر ایچ آئی وی مریض کے آپریشن کے معاملے میں زیر تربیت ڈاکٹروں پر نزلہ کیوں گرایا گیا اور ان کے کیریئر کے ساتھ کیوں یہ کھیل کھیلا گیا جنہوں نے اپنے طویل کیریئر کو آگے لے کر چلنا تھاکیونکہ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق آپریشن صرف سپروائزر ڈاکٹر کی موجودگی میں کیا جا سکتا ہے۔
2۔ جس کمیٹی نے ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا اس میں ڈاکٹرہراج خود موجود تھے اور اس کے کمیٹی کا حصہ تھے۔ اس طرح جونیئر ڈاکٹرز نرسز کی اور دیگر عملے کے خلاف کارروائی میں ڈاکٹر ہراج کی مرضی بھی شامل ہوتی کیونکہ ان کا کوئی اختلافی نوٹ سامنے نہیں آیا مگر بعد ازاں انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آپ مجھے نکال دیں مگر ان بچوں کو نہ نکالیں میں نے تو یہ کہا تھا۔ کیا ڈاکٹر مسعود ہراج کا پریس کانفرنس میں بتایا گیا یہ موقف انکوائری کمیٹی کے منٹس میں شامل ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں